میامی — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیو یورک کے نو منتخب میئر ظہران ممدانی کو ’کمیونسٹ‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے دور میں شہر کے لوگ کمیونزم سے بچنے کے لیے میامی اور فلوریڈا کا رخ کریں گے، جبکہ نیو یورک نے الیکشن کے دن اپنی خودمختاری کھو دی۔ ٹرمپ نے میامی کے امریکہ بزنس فورم سے خطاب میں ممدانی کو واشنگٹن کا احترام کرنے کی تنبیہ کی اور کہا کہ وہ نیو یورک کی کامیابی چاہتے ہیں، تھوڑی مدد بھی کریں گے۔
میامی فورم میں سخت تنقید
صدر ٹرمپ نے بدھ کو میامی کے کیسیا سینٹر میں بزنس لیڈروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیموکریٹس نے نیو یورک کو کمیونسٹ میئر تھما دیا ہے۔ ”دیکھتے ہیں ایک کمیونسٹ نیو یورک میں کیسا کرتا ہے، ہم ان کی تھوڑی مدد کریں گے، ہم چاہتے ہیں نیو یورک کامیاب ہو۔“ انہوں نے مزید کہا کہ میامی جلد ہی نیو یورک سے بھاگنے والوں کی پناہ گاہ بن جائے گا کیونکہ لوگ ممدانی کے ’کمیونسٹ نظریات‘ سے بچنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ممدانی اگر واشنگٹن کے ساتھ تعاون نہیں کریں گے تو بھاری نقصان اٹھائیں گے، لیکن وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی پسماندہ ترین ریاست بہار میں آج انتخابات کا پہلا مرحلہ
ممدانی کی تاریخی فتح اور ٹرمپ کی مخالفت
34 سالہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ ظہران ممدانی نے اینڈریو کومو کو شکست دے کر نیو یورک کے پہلے مسلمان اور کم عمر ترین میئر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ ٹرمپ اور ایلون مسک کی شدید مخالفت کے باوجود ممدانی نے نوجوانوں اور کرائے کے مسائل پر فوکس کر کے ریکارڈ ووٹ حاصل کیے۔ تقریب کے اختتام پر ٹرمپ نے ڈانس بھی کیا۔
جوہری طاقت اور جی ۲۰ پر تبصرے
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ جوہری طاقت میں نمبر ون ہے، روس دوسرے اور چین تیسرے نمبر پر، لیکن ۴-۵ سال میں چین برابر ہو جائے گا۔ انہوں نے جنوبی افریقہ کو جی ۲۰ میں شامل نہ کرنے کا مطالبہ کیا اور رواں ماہ وہاں ہونے والے سربراہی اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا۔
اختتام
ظہران ممدانی نے فتح کے بعد ٹرمپ کو براہ راست چیلنج کیا کہ نیو یورک ان کی تقسیم کی سیاست کا مقابلہ کرے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ واشنگٹن اور نیو یورک کے درمیان تعلقات کس سمت جاتے ہیں، جبکہ ممدانی نے وعدہ کیا ہے کہ شہر کو سستی رہائش، مفت بس سروس اور کارپوریٹ ٹیکس بڑھا کر عوامی فلاح کا ماڈل بنائیں گے۔
