واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے وائٹ ہاؤس کے ویسٹ ونگ میں صحافیوں کی آزادانہ رسائی روک دی ہے۔ اب پریس سیکرٹری کارولین لیویٹ اور دیگر اعلیٰ مواصلاتی حکام کے دفاتر ‘اپر پریس’ علاقے میں داخلے کے لیے پیشگی اپائنٹمنٹ لازمی قرار دی گئی ہے۔ یہ نئی پالیسی قومی سلامتی اور حساس نیشنل سیکیورٹی کونسل (این ایس سی) دستاویزات کے تحفظ کے لیے فوری طور پر نافذ ہو گئی، جو پینٹاگون کے حالیہ اقدامات کا تسلسل ہے۔
نئی پالیسی کی اہم تفصیلات
وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ ‘لور پریس’ علاقہ اب بھی دستیاب رہے گا، مگر ‘اپر پریس’ یا روم 140 میں داخلہ صرف مقررہ وقت پر ممکن ہوگا۔ صحافیوں کو اب حکام سے غیر متوقع ملاقاتیں نہیں کر سکیں گے، جو برسوں پرانی روایت تھی۔ یہ اقدام جمعہ کو جاری کیا گیا مемо کے ذریعے، جس میں واضح کیا گیا کہ مواصلاتی عملہ این ایس سی مواد سنبھال رہا ہے۔
وجوہات اور پچھلے اقدامات
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ یہ قدم لیک ہونے والے حساس مواد کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا۔ پینٹاگون میں ماہ قبل صحافیوں کو بیجز واپس کرانے اور ایسکورٹ لازمی کرنے کی پالیسی نافذ ہوئی تھی، جس پر بڑے میڈیا ہاؤسز نے احتجاج کیا۔ ٹرمپ انتظامیہ میڈیا کو ‘فیک نیوز’ قرار دے چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بنوانے کی تاریخ میں مزید 2 ماہ کی توسیع
صحافیوں کا ردعمل
وائٹ ہاؤس کوریسپانڈنٹس ایسوسی ایشن نے اسے ‘شفافیت کی راہ میں رکاوٹ’ قرار دیا۔ صحافیوں کا کہنا ہے کہ یہ آزادی اظہار پر حملہ ہے، جو امریکی جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے۔
صحافتی آزادی کے لیے نئے چیلنجز
یہ پابندیاں عالمی صحافت پر سوالات اٹھا رہی ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک میں بھی میڈیا آزادی کی جدوجہد جاری ہے، اور ٹرمپ کا یہ اقدام دیگر حکومتیں نقل کر سکتی ہیں۔ کیا یہ سلامتی کا جواز ہے یا کنٹرول؟ وقت بتائے گا۔
