اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے طلب کردہ وفاقی کابینہ اجلاس کو اتحادی جماعتوں کے ساتھ مکمل اتفاقِ رائے نہ ہونے کی وجہ سے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ باکو سے ویڈیو لنک کے ذریعے صدارت کرنے والے وزیراعظم کی مصروفیات اور ترمیم کے کچھ اہم نکات پر مسلسل مشاورت جاری ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتیں اسے آئین کی توہین قرار دے رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی نے آرٹیکل 243 پر حمایت کا اعلان کیا ہے، مگر این ایف سی اور صوبائی خودمختاری کے معاملات پر تحفظات برقرار ہیں۔
حکومت کی کوششیں اور اتحادیوں کے درمیان کشمکش
حکومت نے پیپلز پارٹی کی تجاویز قبول کرتے ہوئے ترمیم کا مسودہ تیار کیا تھا، جو آج صبح 10 بجے پیش ہونا تھا۔ تاہم، ذرائع کے مطابق دو سے تین نکات پر اتحادیوں میں اختلافات کے باعث اجلاس کو آئندہ ہفتے تک موخر کر دیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما سینیٹر افنان اللہ نے میڈیا کو بتایا کہ آرٹیکل 243 میں آئینی عدالتوں کے قیام پر اتفاق ہو چکا ہے، لیکن دیگر شقوں پر بات چیت جاری ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ ایمل ولی خان نے واضح کیا کہ 18ویں ترمیم سے کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے گا، ورنہ بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ مولانا فضل الرحمان کی جماعت علمائے اسلام (ف) نے بھی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے تاکہ حکمت عملی طے کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کا مشہور ریسٹورنٹ کیش لیس پالیسی نظر انداز کرنے پر سیل کر دیا گیا
اپوزیشن کا سخت ردعمل اور بلاول بھٹو کا بیان
اپوزیشن جماعتوں نے سینیٹ میں مشترکہ اجلاس کے بعد اعلان کیا کہ حکمران اتحاد قانون سازی کو بلڈوزر چلا رہا ہے اور ترمیم کا مسودہ چھپایا جا رہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے اسے آئین مخالف قرار دے کر مسترد کر دیا۔ دوسری جانب، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں پریس کانفرنس میں کہا کہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے تین نکات پر اتفاق کیا ہے: آرٹیکل 243 کی ترمیم کی حمایت، میثاق جمہوریت کا نامکمل ایجنڈا مکمل کرنا، اور این ایف سی کے تحت صوبائی فنڈز میں کمی نہ ہونے دینا۔ بلاول نے زور دیا کہ دیگر شقوں پر اتفاقِ رائے ضروری ہے۔
نتیجہ: متفقہ منظوری کی امید
یہ ترمیم پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر صوبائی اختیارات اور عدالتی اصلاحات کے تناظر میں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ تحفظات دور کر کے آئندہ ہفتے پارلیمنٹ میں متفقہ طور پر پیش کیا جائے، مگر اپوزیشن کی مزاحمت اور اتحادیوں کے درمیان کشمکش صورتحال کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔ ملک کی سیاسی استحکام کے لیے جامع مشاورت ناگزیر ہے۔
