اسلام آباد: سوئی ناردرن اور سوئی سدرن گیس کمپنیوں نے مالی سال 2025-26 کے لیے گیس ٹیرف میں respectiv 28.62 فیصد اور 22 فیصد تک اضافہ کی درخواستیں اولی اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) میں جمع کرا دیں۔ ناردرن نے 189 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو جبکہ سدرن نے 125.41 روپے اضافہ مانگا ہے۔ عوامی سماعتیں 7 اور 11 نومبر کو الگ الگ ہوں گی، جس سے گھریلو صارفین پر بوجھ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
درخواستیں اور سماعتیں
سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) نے اسلام آباد، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے صارفین کے لیے گیس کی اوسط قیمت 1955.50 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تک لے جانے کی درخواست کی ہے۔ اسی طرح 316 روپے 64 پیسے ایل این جی سروس کی لاگت کے لیے بھی مانگے گئے۔ دوسری طرف، ایس ایس جی سی ایل نے سندھ اور بلوچستان میں 22 فیصد اضافہ مانگا، جو گزشتہ سال کے بقایاجات کی واپسی پر مبنی ہے۔ اوگرا 7 نومبر کو ناردرن اور 11 نومبر کو سدرن کی سماعت کرے گا۔
عوام اور معیشت پر اثرات
یہ اضافہ غریب اور متوسط خاندانوں کے لیے مہنگائی کا نیا دھچکا ثابت ہوگا۔ صنعتوں کی لاگت بڑھنے سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا، جو اشیا کی قیمتوں پر اثر انداز کرے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کو 77 ارب روپے کی مالی ضرورت پوری کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا، مگر صارفین کی شکایات بڑھ رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حیدرآباد: ڈینگی سے نوجوان کی موت، سول اسپتال انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج
نتیجہ: کیا ہوگا اگلا قدم؟
اوگرا کا فیصلہ حتمی ہوگا، جو حکومت کی منظوری کے بعد نافذ العمل ہو جائے گا۔ صارفین سماعتوں میں شرکت کرکے اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ مگر مسلسل مہنگائی کے دور میں ریلیف کی توقع کم ہے۔ حکومت کو سبسڈی یا متبادل اقدامات پر غور کرنا چاہیے تاکہ عوام کا بوجھ کم ہو۔
