وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے استنبول میں پاک افغان مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار افغان طالبان کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ طالبان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔ جیو نیوز کے پروگرام "آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ” میں انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے دفاع میں ہر ممکن اقدام اٹھائے گا اور روایتی جنگ میں افغانستان کا پاکستان سے کوئی مقابلہ نہیں۔ سرحدی کشیدگی کے باعث پاک افغان سرحد فی الحال بند رہے گی، اور اگلے چند دنوں میں فیصلہ کیا جائے گا۔
مذاکرات کی ناکامی اور طالبان کا مؤقف عطا تارڑ نے کہا کہ استنبول مذاکرات میں طالبان نے دہشت گردی روکنے کی کوئی تحریری یقین دہانی نہیں کرائی، جو ان کے منافقانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ طالبان دہشت گردوں کی حمایت کر رہے ہیں، جو پاکستانی سرزمین پر حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کرتے ہیں۔ تارڑ نے واضح کیا کہ پاکستان سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، لیکن اگر افغان سرزمین سے حملے ہوئے تو سخت جوابی کارروائی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: گلشن اقبال شانتی نگر میں جھونپڑیوں میں آگ لگنے سے ایک شخص جاں بحق
پاکستان کا دفاعی مؤقف وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے ماضی میں چار گنا بڑے دشمن کو شکست دی ہے اور اب بھی "فتنہ الخوارج” اور "فتنہ ہندوستان” کے اتحاد کو کچلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان روایتی جنگ میں افغانستان سے کہیں آگے ہے اور پراکسی وار میں بھی کامیابی حاصل کرے گا۔ سرحد پر فیصلہ کن اقدامات چند دنوں میں متوقع ہیں، جبکہ سرحدی بندش سے تجارت اور آمدورفت متاثر ہو رہی ہے۔
نتیجہ پاک افغان تعلقات میں کشیدگی اور مذاکرات کی ناکامی نے خطے میں امن کے امکانات کو دھندلا دیا ہے۔ عطا تارڑ کا بیان پاکستانی مؤقف کی سختی کو ظاہر کرتا ہے، لیکن سفارتی کوششوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ سرحدی بندش سے دونوں ممالک کے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے، اور ماہرین کا خیال ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔ فی الحال، سرحد پر کشیدگی برقرار ہے، اور اگلے چند دنوں میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔
