منگل, مارچ 3, 2026
Homeپاکستانافغانستان کی تسلی ایک بار ہو چکی، اگر ایک دو بار اور...

افغانستان کی تسلی ایک بار ہو چکی، اگر ایک دو بار اور ہو جائے تو مذاکرات کامیاب ہو جائیں گے، رانا ثنااللہ

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ افغانستان کی تسلی تشفی ایک بار ہو چکی ہے، ایک دو بار مزید ہو جائے تو پاک افغان مذاکرات کامیاب ہو جائیں گے۔ جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی حکمت عملی کی تعریف کی، جن میں حضرت خالد بن ولیدؓ جیسے اوصاف موجود ہیں، اور کہا کہ عسکری محاذ مضبوط ہے مگر سیاسی عدم استحکام پر توجہ دیں۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کے حالات، عمران خان کو میثاق جمہوریت کی پیشکش اور بھارت کے مقابلے میں فوجی برتری کا بھی ذکر کیا۔

پاک افغان مذاکرات اور تسلی تشفی

رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ بھارت جیسی طاقت کے سامنے بھی پاک فوج نے معرکہ برافراش کیا اور صرف دس بارہ گھنٹوں میں دشمن کو سبق سکھایا۔ افغانستان مذاکرات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جب تک پڑوسی ملک کو مکمل تسلی نہ ہو، بات چیت کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ایک بار یہ عمل ہو چکا، اب ایک دو بار مزید ہو جائے تو حالات بہتر ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ جنگ میں فوج کے علاوہ سپہ سالار کی حکمت عملی فیصلہ کن ہوتی ہے۔

فیلڈ مارشل کی تعریف اور تاریخی مثال

سینیٹر رانا ثنا اللہ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف میں کہا کہ ان میں خالد بن ولیدؓ جیسے اوصاف پائے جاتے ہیں۔ جنگ یرموک کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اسلامی فوج کی کامیابی حضرت خالدؓ کی حکمت عملی تھی، اسی طرح آج عسکری محاذ پر کوئی فکر کی بات نہیں۔ البتہ اندرونی سیاسی استحکام ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سمندری طوفان "ملیسا” سے جمیکا اور کیوبا میں تباہی، مختلف حادثات میں 30 افراد جاں بحق

کے پی کے اور عمران خان پر تبصرہ

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا کوئی معاملہ زیر غور نہیں۔ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اپنا لہجہ درست کریں تو مسائل حل ہو جائیں گے۔ عمران خان کو میثاق جمہوریت قبول کرنا چاہیے، پاکستان اس مقام پر پہنچ چکا جہاں قائداعظم کا خواب سچ ہو رہا ہے۔ رانا ثنا اللہ نے اپنی جیل کی یاد تازہ کی کہ پی ٹی آئی دور میں چھ ماہ تنہائی میں رہے۔

نتیجہ: رانا ثنا اللہ کے بیان سے ظاہر ہے کہ حکومت پاکستان افغانستان تعلقات بہتر بنانے اور داخلی استحکام کے حوالے سے پرعزم ہے۔ مذاکرات کی کامیابی سے سرحدوں پر امن قائم ہوگا، مگر سیاسی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں