لاہور: وفاقی حکومت نے ربع سالانہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی صارفین پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (LESCO) نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (NEPRA) کو 60 ارب روپے کی واپسی کی درخواست دی ہے جو کیپیسٹی چارجز، آپریشنل اور مینٹیننس اخراجات میں اضافے کی بنیاد پر ہے۔ NEPRA 6 نومبر کو مختلف ڈسکوؤں کی درخواستیں سنے گی اور منظوری پر اگلے بلوں میں یہ اضافہ شامل ہو جائے گا۔
LESCO کی درخواست کی تفصیلات LESCO نے دستاویزات میں کیپیسٹی چارجز، ٹرانسمیشن چارجز اور دیگر متعلقہ اخراجات میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی لاگت کی وجہ سے یہ واپسی ضروری ہے۔ اس سے قبل دیگر برقی کمپنیوں نے بھی ملحوظہ طور پر ایسی درخواستیں دی ہیں جو صارفین کے لیے نئی پریشانی کا باعث بن سکتی ہیں۔ ان لائن تصویر 1 یہاں رکھیں
یہ بھی پڑھیں: نئے آئی ٹی سینٹرز اسٹارٹ اپ اور فری لانسرز کے لیے جلد آرہے ہیں
6 نومبر کو NEPRA سماعت NEPRA نے تمام پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی درخواستیں یکجا کر کے سماعت کا اعلان کیا ہے۔ اگر منظوری ملی تو نومبر کے بلوں میں فی یونٹ اضافی چارجز شامل ہو جائیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ صارفین کی جیبوں پر مزید دباؤ ڈالے گا جبکہ سرکلر ڈیٹ کم ہونے کی بجائے بڑھ رہا ہے۔
صارفین پر اثرات اور ماہرین کا تجزیہ عام گھرانوں، دکانداروں اور صنعتی یونٹس پر یہ اضافہ مہنگائی کو مزید ہوا دے گا۔ لاہور اور آس پاس کے علاقوں میں LESCO صارفین سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شفافیت لائے اور ضائع شدہ بجلی کی روک تھام کرے۔
نتیجہ: ریلیف کا انتظار صارفین کو نئے بلوں سے پہلے احتیاط برتنی چاہیے اور NEPRA سماعت پر نظر رکھیں۔ حکومت کو چاہیے کہ طویل مدتی حل تلاش کرے تاکہ بجلی کے بلوں میں مسلسل اضافہ نہ ہو
