لاہور: پنجاب حکومت کی طرف سے اینٹی سموگ گنز کو لاہور کی شدید آلودگی کا حتمی حل قرار دینے کے باوجود صوبائی دارالحکومت کے رہائشی ایک بار پھر دنیا کی سب سے زہریلی ہوا میں سانس لے رہے ہیں۔ جمعہ کی صبح آئی کیو ایئر کے مطابق لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 443 تک پہنچ گیا، جو عالمی سطح پر سب سے زیادہ ہے۔
آلودگی کی شدت اور موازنہ
لاہور کی ہوا میں موجود ذرات پھیپھڑوں اور خون میں داخل ہو کر سنگین بیماریاں پیدا کر رہے ہیں۔ دوسرے شہروں سے موازنہ کریں تو دہلی کا اے کیو آئی 178، کویت سٹی 168، کراچی 163، دوحہ 153 اور بیجنگ 152 رہا۔ دبئی بھی ٹاپ 10 میں شامل ہے جہاں اے کیو آئی 135 ہے۔
ناکامی کے اسباب
ماہرین کے مطابق گاڑیوں کے دھوئیں، صنعتی سرگرمیوں اور آس پاس کے کھیتوں میں فصلوں کی جلانے سے آلودگی بڑھ رہی ہے۔ موسم کی وجہ سے زہریلے ذرات زمین کے قریب پھنس گئے ہیں۔ اینٹی سموگ گنز صرف عارضی دھول بٹھاتی ہیں مگر پانی کی بڑے پیمانے پر فضول خرچی اور ڈیزل انجنوں سے مزید آلودگی پیدا کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے ملازمین کے کرایے کی حد میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نتیجہ: فوری اقدامات ناگزیر
حکومت کو فوری طور پر فصلوں کی جلانے پر پابندی، صنعتی چیمنیوں پر فلٹرز اور ٹریفک کنٹرول کو یقینی بنانا چاہیے۔ شہریوں کو ماسک اور اندر رہنے کی ہدایت دی جائے۔ بصورت دیگر لاہور کی آلودگی مزید جان لیوا ہو جائے گی۔
