لاہور/پشاور: ضلع خیبر میں طورخم سرحدی گزرگاہ آج یکم نومبر سے افغان شہریوں کی واپسی کے لیے کھول دی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر بلال شاہد راؤ نے بتایا کہ امیگریشن اور کسٹمز عملہ صبح سات بجے طلب کر لیا گیا تاہم پاک افغان کشیدگی کے باعث دو طرفہ تجارت اور دیگر آمد ورفت معطل رہے گی۔ سرحد 20 اکتوبر سے مکمل بند تھی جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے تجارت بحال کرنے کا فیصلہ بعد میں کرنے کی بات کی تھی۔
انتظامی اقدامات
ڈپٹی کمشنر خیبر بلال شاہد راؤ کی ہدایت پر سرحدی حکام نے فوری تیاریاں مکمل کر لیں۔ ہزاروں افغان شہری جو پشاور اور دیگر علاقوں میں پھنسے تھے، اب باعزت واپسی کر سکیں گے۔ خیبر پولیس اور فرنٹیئر کور نے حفاظتی اقدامات سخت کر دیے ہیں تاکہ صرف واپس جانے والوں کو اجازت ملے۔
پاک افغان کشیدگی کا پس منظر
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے نتیجے میں 20 اکتوبر سے طورخم اور چمن بند ہو گئی تھیں۔ دہشت گردی اور غیر قانونی نقل و حرکت روکنے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا۔ افغان قونصل جنرل نے بھی پشاور میں اپیل کی تھی کہ مہاجرین کی واپسی ممکن بنائی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کیخلاف 9 مئی کے 11 مقدمات کے ٹرائل کا نیا نوٹیفکیشن جاری
تجارت اور مستقبل
وفاقی وزیر عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ تجارت بحال کرنے کا فیصلہ مذاکرات کے بعد ہوگا۔ تاجروں کو نقصان ہو رہا ہے مگر قومی سلامتی اولین ہے۔
نتیجہ: اس اقدام سے ہزاروں افغان خاندانوں کو راحت ملے گی اور پاک افغان تعلقات بہتر ہونے کی امید ہے۔ حکومت کی سنجیدگی سے علاقائی استحکام مضبوط ہوگا۔
