پشاور: خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے صوبے میں امن و امان کی خراب صورتحال پر اہم قدم اٹھاتے ہوئے مختلف سیاسی رہنماؤں سے ٹیلیفونک رابطے کیے اور صوبائی اسمبلی کی ان ہاؤس کمیٹی کے تحت تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین پر مشتمل جرگہ بلانے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے مگر پائیدار امن سب کا مشترکہ ہدف ہے، اور تمام فریقین کو ساتھ لے کر ہی استحکام ممکن ہے۔
سیاسی رہنماؤں سے مشاورت
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مولانا فضل الرحمان (جے یو آئی)، ایمل ولی (اے این پی)، سراج الحق (جماعت اسلامی)، آمیر مقام (مسلم لیگ ن)، آفتاب شیرپاؤ (قومی وطن پارٹی) اور محمد علی شاہ باچا سمیت اہم رہنماؤں سے تفصیلی گفتگو کی۔ فون کالز میں امن و امان کی موجودہ صورتحال اور مشترکہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال ہوا۔ یہ رابطے صوبے میں بگڑتی ہوئی قانون نافذ کرنے والی صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی کسانوں نے آلودگی پھیلانے پر جرمن کمپنیوں کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا
جرگے سے توقعات
ان ہاؤس کمیٹی کے تحت ہونے والا یہ گرینڈ جرگہ صوبے بھر کی سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لے آئے گا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ تمام فریقین کی شمولیت سے دہشت گردی اور بدامنی کا مؤثر مقابلہ ممکن ہوگا۔ قبائلی روایات کے مطابق جرگہ مشاورت اور اتفاق رائے کا بہترین ذریعہ ہے۔
امن کی طرف عزم
سہیل آفریدی کی یہ پہلی بڑی کاوش PTI حکومت کی ریاست مدینہ کے وژن کو مضبوط بنائے گی۔ عوام کو امید ہے کہ جرگہ سے پائیدار حل نکلے گا اور خیبرپختونخوا میں خاموشی اور خوشحالی لوٹ آئے گی۔
