منگل, مارچ 3, 2026
Homeمالیاتحکومت نے کچھ روز کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں...

حکومت نے کچھ روز کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے جمعہ کی شب پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتیں کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت اگلے 15 دنوں کے لیے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 2 روپے 43 پیسے اور ڈیزل میں 3 روپے 2 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 265 روپے 45 پیسے جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل 278 روپے 44 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ مٹی کا تیل 3 روپے 34 پیسے مہنگا ہو کر 185 روپے 5 پیسے اور لائٹ ڈیزل آئل ایک روپے 22 پیسے اضافے سے 163 روپے 98 پیسے فی لیٹر پہنچ گیا ہے۔ یہ نئی قیمتیں آدھی رات سے نافذ العمل ہو چکی ہیں، جو عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ ڈال رہی ہیں۔

نئی قیمتیں اور تفصیلات وزارت خزانہ کے مطابق، یہ اضافہ عالمی تیل کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ پیٹرول کی پرانی قیمت 263 روپے 2 پیسے سے بڑھ کر اب 265 روپے 45 پیسے ہو گئی، جبکہ ڈیزل کی قیمت 275 روپے 42 پیسے سے 278 روپے 44 پیسے تک پہنچ گئی۔ مٹی کا تیل، جو دیہی علاقوں میں گھریلو استعمال کے لیے اہم ہے، اب 181 روپے 71 پیسے کی بجائے 185 روپے 5 پیسے فی لیٹر دستیاب ہوگا۔ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں معمولی اضافہ 162 روپے 76 پیسے سے 163 روپے 98 پیسے ہوا ہے۔ یہ قیمتیں 15 نومبر تک برقرار رہیں گی، جب اگلی فورٹ نائٹ کے لیے نئی ریویو کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: پینٹاگون نے یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے ٹوماہاک میزائل فراہم کرنےکی منظوری دیدی

عوام پر اثرات اس قیمت میں اضافے سے ٹرانسپورٹ، زراعت اور روزمرہ کے استعمال پر براہ راست اثر پڑے گا، جس سے مہنگائی کی شرح مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی کمزوری اور عالمی تنازعات کی وجہ سے ایندھن کی درآمد مہنگی ہو رہی ہے، جو عام آدمی کی جیب پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ شہری علاقوں میں ٹیکسی اور بس مالکان نے کرایوں میں اضافے کا اشارہ دیا ہے، جبکہ کسان برادری لائٹ ڈیزل کی قیمتوں پر ناراض ہے۔ حکومت کی جانب سے کوئی ریلیف پیکج کا اعلان نہیں کیا گیا، جو عوامی تشویش کا باعث بن رہا ہے۔

نتیجہ یہ قیمتوں کا اضافہ معاشی استحکام کی راہ میں ایک اور رکاوٹ ہے، جہاں حکومت کو اب فوری ریلیف اقدامات پر غور کرنا چاہیے۔ ماہرین کی رائے میں، طویل مدتی حل کے لیے تیل کی درآمد متنوع بنانا ضروری ہے۔ عوام کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ایندھن کے استعمال میں کفایت شعاری کا مظاہرہ کریں تاکہ مہنگائی کا دباؤ کم ہو۔ کیا حکومت آگے چل کر سبسڈی دے گی؟ یہ وقت بتائے گا، مگر فی الحال پاکستانی خاندانوں کی بجٹنگ مزید مشکل ہو گئی ہے۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں