پاکستان اور ایران کے درمیان فری ٹریڈ معاہدہ (FTA) کے حتمی مسودے کی توثیق قریب ہے، جبکہ دونوں ممالک سرحد پار تجارت اور علاقائی رابطوں کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ تجارت کے وفاقی وزیر جام کمال خان اور ایرانی سفیر رضا عامری مقتدرام کی حالیہ ملاقات میں ان منصوبوں کا جائزہ لیا گیا، جن میں مند پشین مشترکہ سرحد مارکیٹ کی فعال کاری شامل ہے جو جولائی 2025 میں شروع ہوئی، اور چاگی کوہک اور گبد ریمدان میں دو نئی مارکیٹوں کا قیام۔ اس معاہدے سے باہمی تجارت میں رکاوٹوں کو دور کر کے معاشی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
معاہدے کی حتمی منظوری کی راہ ہموار
پاکستانی حکام FTA کی حتمی متن پر غور کر رہے ہیں اور جلد ہی رسمی منظوری کی توقع ہے۔ اس ملاقات میں دونوں فریقوں نے سرحد پار تجارت کی سہولیات بڑھانے پر اتفاق کیا، خاص طور پر ایرانی ٹرکوں کو درپیش نقل و حمل کے مسائل کو حل کرنے کے لیے کسٹمز اور قرنطینہ کے عمل کو سادہ بنانے کا فیصلہ ہوا۔ غیر تعرفہ رکاوٹوں کو کم کرنے سے مقامی تاجروں کو فائدہ پہنچے گا، جو پاکستان ایران تجارت کو نئی بلندیوں تک لے جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: سی بی ڈی این ایس آئی ٹی سٹی میں ترقیاتی کام کی رفتار تیز، 38 فیصد ایسفالٹک بیس کورس مکمل
سرحد پار منصوبوں میں تیزی آئی
مند پشین مشترکہ سرحد مارکیٹ کی بحالی جولائی 2025 میں مکمل ہوئی، جس سے مقامی کاروبار کو فروغ ملا۔ اس کے علاوہ چاگی کوہک اور گبد ریمدان میں نئی مارکیٹوں کا افتتاح ہونے والا ہے، جو سرحدی علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرے گی۔ دونوں ممالک سرحد کی انفراسٹرکچر کو بہتر بنا رہے ہیں، جس سے تجارت کی لاگت کم ہوگی اور علاقائی رابطے مستحکم ہوں گے۔ یہ اقدامات پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔
معاشی تعلقات کی مضبوط بنیاد
یہ معاہدہ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کو دس بلین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف پورا کرنے میں مددگار ہوگا، جبکہ سرحدی علاقوں کی خوشحالی کو یقینی بنائے گا۔ دونوں ممالک کی قیادت کی کاوشوں سے علاقائی استحکام بڑھے گا، اور پاکستانی معیشت کو نئی توانائی ملے گی۔ مستقبل میں اعلیٰ سطحی دورے اور مشترکہ کاروباری کونسل کی فعال کاری سے یہ تعلقات مزید پختہ ہوں گے۔
