اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طالبان کے گمراہ کن بیان کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت مکمل ہم آہنگی میں ہے اور سرحد پار دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ انہوں نے افغان حکومت کو بیرونی عناصر کے ایجنڈے پر عمل کرنے اور اندرونی عدم استحکام کا شکار ہونے کا الزام لگایا، جبکہ استنبول مذاکرات کے حقائق کو توڑ مروڑنے پر بھی تنقید کی۔ پاکستان نے دہشت گردوں کی گرفتاری اور حوالگی کا مطالبہ دہرایا ہے، تاکہ علاقائی امن کو یقینی بنایا جائے۔
افغان طالبان پر شدید تنقید
وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر جاری بیان میں افغان طالبان کو بھارتی پراکسیوں کے ذریعے دہشت گردی میں ملوث قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چار سال گزر جانے کے باوجود طالبان عالمی وعدوں پر عمل نہیں کر سکے اور خواتین، بچوں اور اقلیتوں پر جبر ان کا اصل چہرہ ظاہر کر رہا ہے۔ "طالبان کی اندرونی دھڑے بندی اور عدم استحکام پاکستان کے لیے خطرہ ہے،” انہوں نے کہا۔ یہ بیان پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں اہم ہے، جہاں سرحدی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال تشویش ناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیوزی لینڈکے سابق کپتان کین ولیمسن کا ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل سے ریٹائرمنٹ کا اعلان
قومی پالیسی پر مکمل اتفاق رائے
خواجہ آصف نے زور دیا کہ پاکستان کی افغان پالیسی قومی مفادات اور علاقائی امن کے لیے ہے، جس پر سیاسی اور عسکری قیادت کا مکمل اتفاق ہے۔ "جھوٹے بیانات سے حقائق نہیں بدلتے، اعتماد عملی اقدامات سے بحال ہوتا ہے،” انہوں نے کہا۔ وزارت اطلاعات کے مطابق، پاکستان نے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا اور حوالگی کی فوری پیشکش کی تھی۔ یہ پالیسی پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت اور دہشت گردی کے خاتمے کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے۔
استنبول مذاکرات کے توڑ مروڑے ہوئے حقائق
واضح رہے کہ افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے بیان کو پاکستان نے مسترد کر دیا ہے۔ استنبول مذاکرات میں پاکستان نے دہشت گردوں کی حوالگی سرحدی انٹری پوائنٹس سے ممکن قرار دیا تھا، مگر افغان فریق نے دعوے کئے جو حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ یہ تنازعہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا رہا ہے، جہاں پاکستان علاقائی استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
وزیر دفاع کا یہ بیان پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، جو سرحد پار خطرات کو ختم کرنے پر مبنی ہے۔ علاقائی امن کے لیے پاکستان پرعزم ہے اور ہمسایہ ممالک سے عملی تعاون کا مطالبہ کرتا رہے گا، تاکہ مشترکہ فلاح حاصل ہو۔
