وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فوڈ اتھارٹی نے ریستورانوں اور فوڈ پوائنٹس کے لیے نئی معیاری طریقہ کار (ایس او پیز) نافذ کر دی ہیں، جن کے تحت شیفس، ویٹرز اور تمام فوڈ ہینڈلنگ سٹاف کے لیے ہیٹس پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ اقدام فوڈ ہائی جین کے اعلیٰ معیار کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے، جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ جگہ کو فوری طور پر سیل کر دیا جائے گا۔ شہریوں سے بھی رپورٹنگ کی اپیل کی گئی ہے تاکہ عوامی صحت کا تحفظ ممکن ہو سکے۔
نئی ایس او پیز کا اعلان اور نفاذ
فوڈ اتھارٹی نے حال ہی میں جاری کردہ ہدایات میں واضح کیا ہے کہ تمام ریستورانوں اور فوڈ پوائنٹس میں کام کرنے والے عملے کو فوڈ ہینڈلنگ کے دوران سیفٹی کیپس کا استعمال کرنا ہوگا۔ یہ حکم ہائی جین معیار کو برقرار رکھنے اور ممکنہ آلودگی سے بچاؤ کے لیے جاری کیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر فوڈ اتھارٹی نے بتایا کہ ٹیمیں مختلف علاقوں میں سرپرائز انسپیکشنز کریں گی، اور شہری بھی کسی بھی خلاف ورزی کی اطلاع دے سکتے ہیں۔ پاکستان میں فوڈ سیفٹی کے نئے ضابطوں کے تحت یہ قدم اہم ہے، جو عوام کی صحت کو ترجیح دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں سموگ پر قابو پانے کے لیے ٹریفک پولیس کا سخت کریک ڈاؤن
ہائی جین معیار کی اہمیت
فوڈ ہائی جین پاکستان کی ترقی یافتہ شہروں میں ایک بڑا چیلنج رہا ہے، اور یہ نئی پالیسی اسے حل کرنے کی طرف ایک قدم ہے۔ ہیٹس کے استعمال سے بالوں کی آلودگی سے بچاؤ ممکن ہوگا، جو غذائی امراض کا باعث بن سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے عوامی صحت بہتر ہوگی اور ریستورانوں کا معیار بھی بلند ہوگا۔ اسلام آباد جیسے شہر میں جہاں کھانے پینے کی جگہیں بڑھ رہی ہیں، فوڈ سیفٹی کے یہ ضابطے انتہائی ضروری ہیں۔
ایک حالیہ ٹویٹ میں صحافی سعید یوسف زئی نے اس خبر کو شیئر کیا، جو اس اقدام کی اہمیت کو واضح کرتا ہے:
معائنہ ٹیموں کی کارروائی اور شہری تعاون
فوڈ اتھارٹی کی ٹیمیں اب مختلف زونز میں چھاپے ماریں گی تاکہ ایس او پیز کی پابندی یقینی بنائی جائے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی ریستوران میں عملے کی بے احتیاطی دیکھیں تو فوری رپورٹ کریں۔ اس سے نہ صرف فوری کارروائی ممکن ہوگی بلکہ مجموعی طور پر فوڈ انڈسٹری میں ذمہ داری کا احساس پیدا ہوگا۔
نتیجہ: یہ نئی ہدایات اسلام آباد میں فوڈ ہائی جین کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا ذریعہ بنیں گی، جو شہریوں کی صحت اور تندرستی کو محفوظ بنائیں گی۔ ریستوران مالکان اور عملے کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر ان پر عمل کریں، جبکہ شہری تعاون سے یہ مہم کامیاب ہوگی۔ فوڈ اتھارٹی کی یہ کاوش پاکستان بھر میں فوڈ سیفٹی کے معیار کو بہتر بنانے کی مثال بن سکتی ہے۔
