منگل, مارچ 3, 2026
Homeپاکستانوزیراعظم نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سہیل آفریدی کو تعاون کی...

وزیراعظم نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سہیل آفریدی کو تعاون کی پیشکش کی تھی، عطاتارڑ کا انکشاف

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے جیو نیوز کے پروگرام ‘نیا پاکستان’ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو مکمل تعاون کی پیشکش کی تھی، مگر نیشنل ایکشن پلان (NAP) کے اہم اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاست میں بات چیت ضروری ہے، بیانات سے کام نہیں چلے گا بلکہ مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے کے لیے عملی قدم اٹھانے ہوں گے۔

سیاست میں بات چیت کی اہمیت

عطا تارڑ نے واضح کیا کہ ہر جماعت کا سیاست کرنے کا حق ہے، لیکن خیبر پختونخوا جیسے صوبے کے معاملات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی جیسی سنگین چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام صوبائی اور وفاقی اداروں کو مل جل کر کام کرنا چاہیے۔ وزیر اطلاعات نے مثال دی کہ صرف میڈیا بیانات سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں، بلکہ اجلاسوں اور ملاقاتوں سے ہی پائیدار حل نکل سکتے ہیں۔ یہ بات پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے تناظر میں انتہائی اہم ہے، جہاں خیبر پختونخوا دہشت گردی کی روک تھام میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ کے پی کا خیبر ٹیچنگ اسپتال میں صحت کارڈ کی بغیر اطلاع بندش کا نوٹس

نیشنل ایکشن پلان اجلاس میں عدم شرکت پر تنقید

وزیر اطلاعات نے NAP کے حالیہ اجلاس میں وزیراعلیٰ کی عدم موجودگی پر ایک بار پھر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کو بھی اس اجلاس میں شریک ہونا چاہیے تھا تاکہ دہشت گردی کے خاتمے کا مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جا سکتا۔ عطا تارڑ کا موقف ہے کہ اجلاس میں شرکت ہی بات آگے بڑھانے کا واحد ذریعہ ہے، ورنہ صرف الزام تراشی سے قوم کی سلامتی کو خطرہ لاحق رہے گا۔ یہ تنقید پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت پر ہے، جو دہشت گردی کی روک تھام میں وفاق سے مکمل تعاون نہ کرنے کی وجہ سے تنقید کی زد میں ہے۔

مشترکہ کاوشوں کی اپیل

خلاصہ طور پر، عطا تارڑ کی گفتگو سے واضح ہے کہ وفاق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا کو ہر ممکن مدد دینے کو تیار ہے، بشرطیکہ صوبائی حکومت سنجیدگی دکھائے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ایسی تنقید اور پیشکشوں سے قومی سلامتی کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو مل کر NAP کو مؤثر بنانا چاہیے تاکہ پاکستان ایک محفوظ اور پرامن ملک بن سکے۔ یہ صورتحال پاکستانی عوام کی بہتری کے لیے ایک نئی امید کی کرن ہے۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں