منگل, مارچ 3, 2026
Homeعالمیغزہ میں کارروائیوں پر امریکا کو صرف اطلاع دیتے ہیں، اجازت نہیں...

غزہ میں کارروائیوں پر امریکا کو صرف اطلاع دیتے ہیں، اجازت نہیں لیتے: نیتن یاہو

تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں حماس کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی اور اپنی فوج کو کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رفح اور خان یونس جیسے علاقوں میں حماس کے مراکز ابھی باقی ہیں جنہیں مکمل طور پر ختم کیا جائے گا۔ نیتن یاہو نے واضح کیا کہ یہ کارروائیاں امریکا کو رپورٹ کی جاتی ہیں مگر اجازت کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی، جبکہ حماس نے امریکا پر جنگ بندی کی پاسداری نہ کرانے کا الزام لگایا ہے۔

نیتن یاہو کا کابینہ میں سخت موقف

کابینہ کے اجلاس میں نیتن یاہو نے زور دیا کہ غزہ کی موجودہ صورتحال میں حماس کے خلاف کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر فوجی دستوں پر حملہ کیا گیا تو حملہ آوروں سمیت ان کی پوری تنظیم کو نشانہ بنایا جائے گا۔ "ہم اپنے فوجیوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے،” انہوں نے کہا۔ نیتن یاہو نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اعلیٰ سطح کی سکیورٹی ذمہ داریاں خود سنبھالی ہوئی ہیں اور انہیں ترک کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ یہ بیان غزہ میں جاری تنازعے کی شدت کو ظاہر کرتا ہے جہاں حماس کے مبینہ ٹھکانے تباہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

حماس کا امریکی کردار پر تنقید

دوسری جانب، حماس نے اپنے بیان میں امریکا کو مورد الزام ٹھہرایا کہ وہ اسرائیل کو جنگ بندی معاہدے کی پاسداری پر مجبور نہیں کر رہا۔ حماس کے ترجمان نے کہا کہ امریکی مداخلت کی کمی سے غزہ میں انسانی المیہ مزید گہرا ہو رہا ہے۔ یہ ردعمل نیتن یاہو کے بیان کے فوراً بعد سامنے آیا، جو علاقائی تناؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ رفح اور خان یونس میں جاری آپریشنز سے ہزاروں شہری متاثر ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سلمان اکرم راجہ اور شاہ محمود قریشی کی پی کے ایل آئی میں ملاقات، ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو

غزہ تنازعے کے وسیع اثرات

اس بیان سے غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی مہم کی سمت واضح ہو گئی ہے، جو حماس کے خاتمے کا ہدف رکھتی ہے۔ پاکستان سمیت مسلم دنیا میں اسے شدید تنقید کا سامنا ہے، جہاں غزہ کی صورتحال کو انسانی بحران قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی برادری کی طرف سے جنگ بندی کی اپیلوں کے باوجود، نیتن یاہو کا لہجہ سخت ہے، جو مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

نتیجہ: نیتن یاہو کا یہ اعلان غزہ تنازعے کو مزید طول دے سکتا ہے، جبکہ حماس کی تنقید امریکی کردار پر سوالات اٹھاتی ہے۔ پاکستان میں یہ خبر غزہ کی حمایت میں احتجاجوں کو ہوا دے گی، اور عالمی سطح پر سفارتی کوششوں کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں