استنبول میں آج غزہ امن منصوبے پر اہم مشاورتی اجلاس کا انعقاد ہو رہا ہے، جس میں پاکستان سمیت آٹھ ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار پاکستان کی نمائندگی کریں گے، جبکہ سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، اردن اور مصر کے وزرا بھی موجود ہوں گے۔ اجلاس کا محور جنگ بندی پر عمل درآمد، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور اسرائیلی فوج کے غزہ سے مکمل انخلا پر زور دینا ہے، جہاں پاکستان فلسطینی ریاست کے قیام اور القدس شريف کو دارالحکومت تسلیم کرنے کی حمایت کا اعلان کرے گا۔
اجلاس کی اہمیت اور شرکاء
یہ اجلاس ترکی کی سرپرستی میں منعقد ہو رہا ہے، جو غزہ میں جاری بحران کو روکنے کی مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کے مطابق، پاکستان اور سات عرب و اسلامی ممالک غزہ امن معاہدے کی کوششوں میں سرگرم رہے ہیں۔ اجلاس میں امدادی سامان کی فراہمی میں اسرائیلی رکاوٹوں اور جنگ بندی کے وعدوں کی خلاف ورزیوں پر بھی تفصیلی بحث ہوگی، تاکہ فلسطینی عوام کو فوری ریلیف مل سکے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی غزہ امن منصوبے کو مضبوط بنانے پر مرکوز ہے، جو علاقائی استحکام کی ضمانت ہے۔
پاکستان کا واضح موقف
پاکستان اجلاس میں جنگ بندی معاہدے پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کرے گا، جبکہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی فوج کے فوری انخلا پر زور دے گا۔ ترجمان اندرابی نے بتایا کہ پاکستان بلا رکاوٹ انسانی امداد، غزہ کی تعمیر نو اور آزاد، قابل بقا فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہوگا۔ پاکستان فلسطینیوں کے خود ارادیت کے حق اور ان کی عزت و انصاف کی بحالی کے لیے پرعزم ہے، جو عالمی برادری کو متحد کرنے کی کوشش ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں کارروائیوں پر امریکا کو صرف اطلاع دیتے ہیں، اجازت نہیں لیتے: نیتن یاہو
موجودہ صورتحال اور چیلنجز
یاد رہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی خلاف ورزیاں جاری ہیں، جن میں 236 فلسطینی شہید اور 600 زخمی ہو چکے ہیں۔ اجلاس ان مسائل کو حل کرنے کا اہم پلیٹ فارم بن سکتا ہے، جہاں پاکستان کی فعال سفارت کاری فلسطینی جدوجہد کو تقویت دے گی۔
نتیجہ: پاکستان کی سفارتی کاوشیں
پاکستان کی یہ شمولیت غزہ امن منصوبے کو نئی سمت دے گی، جو نہ صرف فلسطینی بھائیوں کی مدد کرے گی بلکہ خطے میں دیرپا امن کی بنیاد رکھے گی۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ انصاف پر مبنی رہی ہے، اور استنبول اجلاس اس کی مزید تقویت کا ثبوت ہے
