نئی دہلی: بھارتی خلائی تحقیقاتی تنظیم (آئی ایس آر او) نے اپنا اب تک کا سب سے وزنی مواصلاتی سیٹلائٹ سی ایم ایس-۰۳ (جی سیٹ-۷ آر) کامیابی سے مدار میں پروان چڑھا دیا ہے۔ یہ ۴ ہزار ۴۱۰ کلوگرام وزنی سیٹلائٹ آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا سے ایل وی ایم۳-ایم۵ راکٹ پر سوار ہو کر لانچ کیا گیا، جو بھارتی بحریہ کے لیے جدید مواصلاتی سہولیات فراہم کرے گا اور پورے ہندوستان سمیت آس پاس کے سمندری علاقوں کی کوریج کرے گا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اس کامیابی پر آئی ایس آر او کو مبارکباد دی اور کہا کہ ہمارا خلائی شعبہ ہمیں فخر کا باعث بنتا رہے گا۔
لانچ کی تفصیلات اور تکنیکی خصوصیات
یہ لانچ بھارتی خلائی پروگرام کی ایک اہم سنگ میل ہے، جہاں راکٹ شام پانچ بج کر چھبیس منٹ پر خلا کی طرف روانہ ہوا۔ سیٹلائٹ کی مدد سے بحریہ کو محفوظ اور تیز رفتار ڈیٹا ٹرانسمیشن ملے گی، جو جنگی اور ریسکیو آپریشنز میں معاون ثابت ہوگا۔ آئی ایس آر او کے سائنسدانوں نے اس مشن کو "بہوبلی” کا نام دیا ہے، جو اس کی طاقت اور اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے قبل بھارت کے مواصلاتی سیٹلائٹس کا وزن ۲ ہزار کلوگرام سے کم ہوتا تھا، لیکن یہ نیا سیٹلائٹ ملک کی خود کفیل ٹیکنالوجی کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کشیدگی میں کمی کی کوششیں، عمران خان خود رکاوٹ بن گئے
علاقائی اثرات اور مستقبل کی راہیں
اس لانچ سے جنوبی ایشیا میں مواصلاتی انقلاب کی توقع ہے، خاص طور پر بھارتی بحریہ کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا جو ہند بحیرہ اور عرب سمندر کی نگرانی کو مضبوط بنائے گا۔ پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک کے لیے یہ پیش رفت ناظرین کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، جہاں خلائی مقابلہ روز بروز شدت اختیار کر رہا ہے۔ آئی ایس آر او کا کہنا ہے کہ اگلے سال مزید تین مشنز لائن میں ہیں، جو چاند اور مریخ کی طرف مزید قدم بڑھائیں گے۔
اختتام: خلائی دوڑ میں نئی جہت
یہ کامیابی بھارت کے خلائی شعبے کی ترقی کی علامت ہے، جو نہ صرف قومی فخر بلکہ عالمی سطح پر مقابلے کی طاقت کا اظہار کرتی ہے۔ تاہم، جنوبی ایشیا میں امن اور تعاون کی ضرورت ہے تاکہ ایسی پیش رفت علاقائی استحکام کو فروغ دے۔ آئی ایس آر او کی یہ پیش رفت مستقبل کی راہ ہموار کرے گی، جہاں ٹیکنالوجی انسانیت کی خدمت کرے گی۔
