منگل, مارچ 3, 2026
Homeمالیاتایف بی آر کو مزید ٹیکس لگانے کی ضرورت نہیں ہے: چیئرمین...

ایف بی آر کو مزید ٹیکس لگانے کی ضرورت نہیں ہے: چیئرمین ایف بی آر

اسلام آباد: وفاقی بورڈ برائے ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین راشد لنگڑیال نے اعلان کیا ہے کہ ایف بی آر کو مزید ٹیکس عائد کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ بجٹ میں منظور شدہ اقدامات پر عمل جاری ہے اور ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے بتایا کہ ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والوں کی تعداد 49 لاکھ سے بڑھ کر 59 لاکھ ہو گئی ہے، جبکہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں پہلی بار 1.5 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کو تمام اداروں کا تعاون حاصل ہے اور ریونیو اکٹھا کرنے کے لیے صوبوں پر وفاق جتنا دباؤ نہیں ہے۔

ٹیکس وصولیوں میں اضافہ اور اصلاحات کا سفر

چیئرمین راشد لنگڑیال نے واضح کیا کہ مؤثر اقدامات کی بدولت ٹیکس وصولیاں بہتر ہوئی ہیں، لیکن ٹیکس اصلاحات ایک طویل عمل ہے جو ایک سال میں مکمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وفاق کو 15 فیصد اور صوبوں کو 3 فیصد ریونیو کا ہدف حاصل کرنا ہے، اور اس مقصد کے لیے ایف بی آر جی ڈی پی کے 18 فیصد تک ٹیکس وصولی کو لے جانے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔ یہ اضافہ انفرادی ٹیکس گوشواروں کی بڑھتی ہوئی شرح کی وجہ سے ممکن ہوا، جو پاکستانی معیشت کے لیے خوش آئند نشانی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا کا پہلا ملک جہاں ایک پوری نسل کیلئے تمباکو نوشی کو غیر قانونی قرار دیدیا گیا

ریونیو ٹارگٹس اور اداروں کا کردار

لنگڑیال نے زور دیا کہ ایف بی آر کو مزید ٹیکس لگانے کی بجائے موجودہ نظام کو مضبوط بنانا چاہیے، کیونکہ تمام سرکاری اداروں کی مدد سے ہی یہ ممکن ہے۔ انہوں نے صوبائی سطح پر ریونیو کی ذمہ داری کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ وفاق پر دباؤ زیادہ ہے، مگر صوبے بھی اپنا حصہ ادا کریں تو مجموعی طور پر معاشی استحکام آئے گا۔ یہ بیان پاکستان کی جاری معاشی چیلنجز کے تناظر میں اہم ہے، جہاں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کی بجائے کارکردگی بہتر بنانا ترجیح ہے۔

اختتام: معاشی استحکام کی طرف قدم

راشد لنگڑیال کا یہ بیان پاکستانی عوام اور کاروباری حلقوں کے لیے راحت کا باعث ہے، کیونکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایف بی آر ٹیکس بوجھ بڑھانے کی بجائے نظام کی کارکردگی پر توجہ دے رہا ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو جی ڈی پی میں ٹیکس کا حصہ بڑھنے سے معاشی ترقی کو تقویت ملے گی، مگر اصلاحات کی کامیابی کے لیے مسلسل تعاون ضروری ہے۔ پاکستان کی معاشی بحالی کے لیے یہ اقدامات امید افزا ہیں۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں