منگل, مارچ 3, 2026
Homeمالیاتایف بی آر نے ارب پتی ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائیاں شروع...

ایف بی آر نے ارب پتی ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائیاں شروع کردیں

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ان ٹیکس دہندگان کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز کر دیا ہے جو سوشل میڈیا پر پرتعیش زندگی کا مظاہرہ کرتے ہیں مگر اپنے ٹیکس گوشواروں میں انتہائی کم آمدنی ظاہر کرتے ہیں۔ لائف اسٹائل مانیٹرنگ سیل نے ایسے متعدد افراد کی نشاندہی کی ہے جن کے پاس اربوں روپے مالیت کی لگژری گاڑیاں، زیورات اور غیر ملکی دورے شامل ہیں، لیکن ٹیکس ریٹرنز میں یہ سب چھپایا گیا ہے۔ یہ اقدام ٹیکس وصولی کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے جبکہ رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ میں 274 ارب روپے کی کمی سامنے آئی ہے۔

فنانشل ٹیکنالوجی کمپنی کے سی ای او کی پرتعیش زندگی

لاہور کی ایک فنانشل ٹیکنالوجی کمپنی کے سی ای او کے پاس 30 جدید گاڑیاں ہیں جن کی مجموعی مالیت 2.741 ارب روپے ہے۔ ان میں لیمبورگینی ایونٹیڈور (پیلے اور کالے رنگ کی)، رولز رائس فینٹم اور دیگر قیمتی گاڑیاں شامل ہیں۔ تاہم، ان کی ٹیکس ڈیکلریشن میں یہ اثاثے ظاہر نہیں کیے گئے۔ 2019 سے 2025 تک انہوں نے متعدد بار اپنی آمدنی میں ترمیم کی، جیسے 2019 میں پہلے 5 لاکھ روپے ظاہر کیے پھر 34 لاکھ تک بڑھا دیے۔ 2024 میں تو صفر آمدنی دکھائی مگر بعد میں 6 کروڑ 79 لاکھ روپے کر دی۔ اس کے علاوہ سونے کی مقدار 10 تولہ سے 50 تولہ اور دیگر اثاثے بھی بڑھا کر دکھائے گئے، حالانکہ ان کی کوئی زرعی زمین نہیں ہے۔ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ لائف اسٹائل اور ٹیکس ریٹرنز میں واضح تضاد ہے۔

سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور ٹریولرز پر نظر

لاہور کی ایک ٹریول انفلوئنسر نے 2021 سے 2025 تک 25 سے زائد ممالک کا سفر کیا مگر آمدنی صرف 4 لاکھ 42 ہزار سے 37 لاکھ 90 ہزار روپے تک ظاہر کی۔ اسی طرح اسلام آباد کی ایک ماڈل اور انفلوئنسر کے پاس لوئی وٹون بیگ، گچی کپڑے، رولیکس گھڑی اور ٹویوٹا لینڈ کروزر جیسی چیزیں ہیں، لیکن آمدنی 35 لاکھ سے 54 لاکھ 90 ہزار روپے کے درمیان دکھائی۔ ایف بی آر نے سوشل میڈیا پوسٹس کی بنیاد پر ان کی فائلیں ریجنل دفاتر کو بھیجی ہیں تاکہ کارروائی کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر کو مزید ٹیکس لگانے کی ضرورت نہیں ہے: چیئرمین ایف بی آر

نتیجہ

ایف بی آر کی یہ کارروائی پاکستان کے ٹیکس نظام کو شفاف بنانے اور وصولی کو بڑھانے کی طرف اہم قدم ہے۔ مالی سال کے ہدف 14.13 ٹریلین روپے کو حاصل کرنے کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں تاکہ معیشت مضبوط ہو اور ٹیکس چوری کی روک تھام ہو۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کی نگرانی سے مزید کیس سامنے آئیں گے۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں