منگل, مارچ 3, 2026
Homeعالمیٹرمپ کا بیان: سعودی عرب جلد ابراہیمی معاہدے میں شامل ہوگا، ہم...

ٹرمپ کا بیان: سعودی عرب جلد ابراہیمی معاہدے میں شامل ہوگا، ہم راستہ نکال لیں گے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر بھی سعودی عرب کو اس معاہدے کا حصہ بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ سی بی ایس کے مشہور پروگرام ’60 منٹس’ میں انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان 18 نومبر کو وائٹ ہاؤس کا دورہ کریں گے، جہاں علاقائی مسائل اور دوطرفہ تعلقات پر بات چیت ہوگی۔ یہ بیان مشرق وسطیٰ میں سفارتی تبدیلیوں کی نئی امیدیں جگا رہا ہے۔

انٹرویو کی اہم تفصیلات

صدر ٹرمپ سے اینکر نرہ او ڈانل نے پوچھا کہ کیا سعودی عرب فلسطینی ریاست کے بغیر ابراہیمی معاہدے میں شامل ہوگا؟ جواب میں ٹرمپ نے پراعتماد لہجے میں کہا، "مجھے لگتا ہے کہ وہ شامل ہوجائیں گے، ہم کوئی نہ کوئی حل نکال لیں گے۔” دو ریاستی حل پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اسرائیل اور ان کی اپنی مرضی پر منحصر ہے، اور وہ اسے حتمی شکل دیں گے۔ یہ بیان 2020 میں طے پانے والے ابراہیمی معاہدوں کی توسیع کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش نے اسرائیل سے تعلقات استوار کیے تھے۔

سعودی ولی عہد کا وائٹ ہاؤس دورہ

وائٹ ہاؤس کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان 18 نومبر کو صدر ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات میں توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی جیسے امور زیر بحث آئیں گے۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ٹرمپ سعودی عرب پر ابراہیمی معاہدے کی شمولیت کے لیے دباؤ بڑھا رہے ہیں، جو مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست کو بدل سکتا ہے۔ پاکستان کے تناظر میں یہ پیش رفت خطے میں استحکام کی امید بڑھاتی ہے، جہاں سعودی عرب کا کردار کلیدی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر نے ارب پتی ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائیاں شروع کردیں

ابراہیمی معاہدے کا پس منظر

ابراہیمی معاہدے 2020 میں صدر ٹرمپ کے دور میں شروع ہوئے، جو عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان امن اور تعاون کی بنیاد رکھتے ہیں۔ سعودی شمولیت اسے مزید مضبوط بنائے گی، مگر فلسطینی حقوق کے تحفظ کی سوالات ابھر رہے ہیں۔

نتیجہ: یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں نئی سفارتی راہیں کھول سکتی ہے، جو پاکستان سمیت مسلم دنیا کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگی۔ تاہم، فلسطینی ریاست کا معاملہ حل ہوئے بغیر مکمل کامیابی مشکوک ہے۔ ٹرمپ کی یہ کوشش عالمی توازن کو متاثر کرے گی، اور پاکستان کو بھی اس پر نظر رکھنی چاہیے۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں