منگل, مارچ 3, 2026
Homeپاکستانائیرکرافٹ انجینئرز کے احتجاج نے ملک بھر میں قومی ائیرلائن کا فلائٹ...

ائیرکرافٹ انجینئرز کے احتجاج نے ملک بھر میں قومی ائیرلائن کا فلائٹ آپریشن معطل کر دیا

اسلام آباد: قومی ائیرلائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے ائیرکرافٹ انجینئرز نے انتظامیہ کے ساتھ تنازعہ کی شدت پر فلائٹ آپریشنز روک دیے، جس سے ملک بھر میں پروازیں معطل ہو گئیں۔ پیر کی رات آٹھ بجے کے بعد 12 بین الاقوامی پروازوں سمیت متعدد فلائٹس متاثر ہوئیں، جبکہ عمرہ زائرین سمیت ہزاروں مسافر شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ سوسائٹی آف ائیرکرافٹ انجینئرز آف پاکستان (سی اے ای پی) نے سیفٹی خدشات اور تنخواہوں کی عدم اضافہ کی شکایات پر احتجاج کیا، جبکہ انتظامیہ نے انہیں غیر قانونی قرار دے دیا اور متبادل انتظامات کا اعلان کیا۔

انجینئرز کے مطالبات اور احتجاج کی وجوہات

ائیرکرافٹ انجینئرز ڈھائی ماہ سے بازوؤں پر کالی پٹیاں باندھے پرامن احتجاج کر رہے تھے، مگر انتظامیہ کی لاپرواہی پر کام بند کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ آٹھ سال سے تنخواہیں نہیں بڑھیں، طیاروں کے لیے پرزوں کی شدید کمی ہے، اور ان پر حفاظتی قوائد کی خلاف ورزی کا دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ سوسائٹی کے مطابق، مسافروں کی جان خطرے میں ڈالنے کی بجائے وہ کلیئرنس روک رہے ہیں جب تک سی ای او کا رویہ تبدیل نہ ہو۔ یہ احتجاج سیفٹی کو یقینی بنانے کا مطالبہ ہے، جو پاکستان کی ایوی ایشن انڈسٹری کے لیے اہم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گورنر سندھ نے کراچی میں سرعام اسلحہ کی نمائش اور فائرنگ کے واقعے پر سخت نوٹس لے لیا

انتظامیہ کا ردعمل اور قانونی کارروائی

پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے احتجاج کرنے والے انجینئرز کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے، جبکہ ترجمان نے سوسائٹی کو غیر قانونی قرار دیا اور احتجاج کو نجکاری کے منصوبے کی سبوتاژ قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ لازمی سروسز ایکٹ کے تحت ہڑتال جرم ہے، اور متبادل انجینئرنگ خدمات دوسری ایئرلائنز سے حاصل کی جا رہی ہیں۔ ترجمان نے یقین دلایا کہ جلد پروازیں بحال ہو جائیں گی، مگر یہ بیان تنازعہ کو مزید گہرا کر رہا ہے۔

مسافروں کی مشکلات اور ممکنہ اثرات

متاثرہ پروازوں سے عمرہ زائرین سمیت مسافروں کو ایئرپورٹس پر انتظار اور مالی نقصان کا سامنا ہے، جو پاکستان کی ایوی ایشن سیفٹی اور معاشی استحکام پر سوالات اٹھا رہا ہے

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں