منگل, مارچ 3, 2026
Homeعالمیاسرائیلی فوج کی سابق پراسیکیوٹر گرفتار، جس نے فلسطینی قیدی پر تشدد...

اسرائیلی فوج کی سابق پراسیکیوٹر گرفتار، جس نے فلسطینی قیدی پر تشدد کی ویڈیو لیک کی تھی

اسرائیلی فوج کی اعلیٰ عہدیدار، میجر جنرل یفات تومر یروشلمی کو فلسطینی قیدی پر تشدد کی ویڈیو میڈیا کو لیک کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ وہ ملٹری ایڈووکیٹ جنرل تھیں، جنہوں نے گزشتہ ہفتے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اگست 2024 میں نشر ہونے والی اس ویڈیو میں اسرائیلی فوجیوں کو سدی تیمان جیل میں قیدی کو شدید تشدد کا نشانہ بناتے دکھایا گیا، جس کے نتیجے میں قیدی زخمی ہوکر ہسپتال منتقل ہوا اور پانچ فوجی افسران کو حراست میں لیا گیا۔

واقعہ کی تفصیلات

سدی تیمان جیل، جو غزہ سے گرفتار فلسطینیوں کی رہائش گاہ ہے، میں ہونے والے اس تشدد نے اسرائیل بھر میں ہنگامہ برپا کر دیا۔ ویڈیو میں فوجیوں کے وحشیانہ رویے کو واضح طور پر دکھایا گیا، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف اسرائیلی فوج کی ساکھ کو دھچکا لگایا بلکہ عالمی سطح پر فلسطینی قیدیوں کے ساتھ سلوک پر سوالات اٹھائے۔

تحقیقات اور استعفٰی کا سفر

گزشتہ ہفتے ویڈیو لیک کی تحقیقات شروع ہونے پر یفات تومر یروشلمی کو جبری رخصت پر بھیج دیا گیا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ویڈیو ان کے دفتر سے میڈیا تک پہنچی تھی، جس کے بعد انہوں نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ استعفٰی کے فوراً بعد ان کی گمشدگی کی افواہیں پھیل گئیں، جو بعد میں بازیابی کی خبر سے ختم ہوئیں۔ تاہم، اب گرفتاری نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پہلا ون ڈے: پاکستان اور جنوبی افریقا آج ایک دلچسپ مقابلے میں مدِمقابل ہوں گے

گرفتاری کے اثرات

اسرائیلی حکام نے ان پر انصاف میں رکاوٹ اور اعتماد کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ گرفتاری نہ صرف فوجی عدالتی نظام بلکہ غزہ تنازعے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر روشنی ڈالتی ہے۔ پاکستانی حلقوں میں اسے فلسطینی جدوجہد کی حمایت میں دیکھا جا رہا ہے۔

نتیجہ یہ واقعہ اسرائیلی فوج کے اندرونی خلفشار کو ظاہر کرتا ہے اور فلسطینی قیدیوں کے حقوق کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ ایسی خلاف ورزیوں پر فوری عمل کرے تاکہ انسانی وقار محفوظ رہے۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں