منگل, مارچ 3, 2026
Homeٹیکنالوجیپی ٹی اے کے سروے میں فکسڈ لائن براڈبینڈ کے معیار پر...

پی ٹی اے کے سروے میں فکسڈ لائن براڈبینڈ کے معیار پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے 2025ء کی تیسری سہ ماہی (جولائی سے ستمبر) کے لیے فکسڈ لائن براڈ بینڈ سروسز کی کوالٹی آف سروس (کیو ایس) سروے مکمل کر لیا ہے۔ 34 بڑے شہروں سمیت آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں پھیلے اس سروے سے براڈ بینڈ سروس فراہم کنندگان (بی ایس پیز) کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، جس میں زیادہ تر نے نیٹ ورک دستیابگی، جیٹر اور تاخیر جیسے کلیدی اشاریوں کو پورا کیا مگر پیک اوقات میں اونچی بینڈوتھ استعمال سے کنجیشن اور سست انٹرنیٹ کی شکایات سامنے آئیں، جو صارفین کی روزمرہ زندگی متاثر کر رہی ہیں۔

سروے کی اہم تفصیلات

اس سروے کا مقصد صارفین کو قابل اعتماد اور اعلیٰ معیار کی انٹرنیٹ سروس یقینی بنانا تھا۔ پی ٹی اے نے مقامی اور بین الاقوامی نیٹ ورک سیگمنٹس میں کارکردگی کی جانچ کی، جس کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ بی ایس پیز نے مجموعی طور پر معیاری اشاریوں کو برقرار رکھا۔ تاہم، روٹنگ اور بیک بون کی ناکامیوں کی وجہ سے تاخیر میں اضافہ دیکھا گیا۔ مکمل رپورٹ پی ٹی اے کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے، جو براڈ بینڈ انٹرنیٹ پاکستان کے شہریوں کے لیے اہم دستاویز ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ نے سموگ پر قابو پانے میں پنجاب حکومت کی ناکامی پر برہمی کا اظہار کیا۔

کارکردگی کے چیلنجز

پیک اوقات میں اونچی بینڈوتھ استعمال نے نیٹ ورک پر دباؤ بڑھا دیا، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار کم ہوئی اور صارف تجربہ خراب ہوا۔ مقامی اور بین الاقوامی تاخیر میں اضافہ روٹنگ کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے، جو ویب براؤزنگ، ویڈیو سٹریمنگ اور آن لائن کام کو متاثر کر رہا ہے۔ یہ مسائل خاص طور پر شہری علاقوں میں نمایاں ہیں، جہاں براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔

پی ٹی اے کے اقدامات

ان نتائج پر ردعمل میں پی ٹی اے نے تمام متعلقہ آپریٹرز کو فوری اصلاحاتی اقدامات اٹھانے کا حکم دیا ہے، تاکہ نیٹ ورک کی اعتبار بڑھے اور صارفین کو بہتر سروس ملے۔ یہ ہدایات ملک بھر میں انٹرنیٹ کی معیاری فراہمی کو یقینی بنانے کی طرف اہم قدم ہیں۔

نتیجہ

یہ سروے براڈ بینڈ انٹرنیٹ پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹوں کو اجاگر کرتا ہے، مگر پی ٹی اے کی فعال نگرانی سے امید ہے کہ آنے والے مہینوں میں صارفین کو تیز اور مستحکم کنیکٹیویٹی ملے گی۔ ڈیجیٹل پاکستان کی کامیابی کے لیے ایسی کاوشیں ناگزیر ہیں، جو معاشی اور تعلیمی شعبوں کو فروغ دیں گی۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں