منگل, مارچ 3, 2026
Homeپاکستانرانو ریچھ کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کا عمل شروع...

رانو ریچھ کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

کراچی چڑیا گھر کی مشہور مادہ ریچھ ’رانو‘ کو سندھ ہائی کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے کراچی سے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا ہے۔ خصوصی سیکیورٹی اور صحت کی جانچ کے بعد اسے بذریعہ سی-130 طیارہ فیصل ایئر بیس سے روانہ کیا گیا، جہاں پہلے مرحلے میں بلیک بیئر ری ہیبیلیٹیشن سینٹر میں اس کی بحالی ہوگی، اس کے بعد گلگت بلتستان کے جنگلات میں آزادی ملے گی۔ یہ اقدام وائلڈ لائف تحفظ کی ایک اہم کڑی ہے جو ریچھوں کی قدرتی زندگی بحال کرنے کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔

منتقلی کی تفصیلی تیاریاں

رانو کی منتقلی سے قبل کراچی چڑیا گھر کے عملے نے اسے خصوصی آہنی پنجرے میں رکھا، جہاں اس کے ردعمل، خوراک کی عادات اور جسمانی و ذہنی صحت کا مکمل جائزہ لیا گیا۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ترجمان کے مطابق، کوئی نشہ آور دوا استعمال کیے بغیر یہ عمل مکمل کیا گیا تاکہ ریچھ کی قدرتی حالت برقرار رہے۔ وائلڈ لائف کمیٹی کے اراکین نے بھی اس عمل کی نگرانی کی، جو سندھ ہائی کورٹ کی ہدایت پر قائم کی گئی تھی۔ یہ منتقلی نہ صرف ریچھ کی بہتر دیکھ بھال یقینی بنائے گی بلکہ چڑیا گھر کے دیگر جانوروں کے لیے بھی ایک مثال قائم کرے گی۔

اگلے مرحلے کا منصوبہ اور وائلڈ لائف تحفظ

اسلام آباد پہنچنے کے بعد رانو کو بلیک بیئر ری ہیبیلیٹیشن سینٹر میں منتقل کیا جائے گا، جہاں ماہرین اس کی صحت کی بحالی اور جنگلی زندگی کی تربیت کریں گے۔ دوسرے مرحلے میں، اسے گلگت بلتستان کے دیوسائی نیشنل پارک یا استور ویلی جیسے علاقوں میں چھوڑ دیا جائے گا، جہاں ہمالیہ ریچھوں کا قدرتی مسکن موجود ہے۔ ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم پاکستان میں ریچھوں کی نسل کی حفاظت کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا، خاص طور پر جب موسمیاتی تبدیلیاں ان کی بقا کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکاکی ریاستوں ورجینیا اور نیوجرسی میں بھی ڈیموکریٹس کامیاب

نتیجہ: جانوروں کے حقوق کی فتح

رانو کی منتقلی وائلڈ لائف تحفظ اور جانوروں کے حقوق کی تحریک کی ایک بڑی کامیابی ہے، جو ثابت کرتی ہے کہ عدالتی مداخلت اور حکومتی تعاون سے ماحولیاتی مسائل حل کیے جا سکتے ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں شہری مراکز میں جانوروں کی حالت زار سوالیہ نشان ہے، یہ واقعہ دیگر چڑیا گھروں کے لیے رہنمائی کا باعث بنے گا۔ امید ہے کہ رانو جلد اپنے قدرتی جنگلات میں آزادانہ گھومے گی، اور اس کی کہانی لاکھوں پاکستانیوں کو ماحولیات کی اہمیت سکھائے گی۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں