منگل, مارچ 3, 2026
Homeمالیاتتھوک اور پرچون فروشوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا نیا ضابطہ...

تھوک اور پرچون فروشوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا نیا ضابطہ نافذ

اسلام آباد: وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے تھوک اور پرچون فروشوں کو ٹیکس نظام میں شامل کرنے کے لیے نیا ضابطہ نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت ماہانہ ایڈجسٹ ایبل ودہولڈنگ ٹیکس ایک لاکھ روپے (تھوک فروشوں) یا پانچ لاکھ روپے (پرچون فروشوں) سے تجاوز کرنے والے کاروباروں کو پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) سسٹم سے جوڑنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس اقدام سے جنرل سیلز ٹیکس کی وصولی بڑھے گی اور کاروباری رجسٹریشن کو بھی لازمی بنایا گیا ہے، جبکہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعات 236G اور 236H کے تحت ودہولڈنگ ٹیکس کی شرحیں بڑھا دی گئی ہیں۔

نیا ضابطہ کیا کہتا ہے؟

ایف بی آر نے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 50، اور دفعات 22 و 23 کے تحت سیلز ٹیکس رولز 2006 میں ترامیم کی ہیں، جس سے ہول سیلرز، ڈسٹری بیوٹرز اور ریٹیلرز کے کاروبار کو انضمام کے ذریعے ٹیکس مشینری سے جوڑا جائے گا۔ اس کا مقصد اصل فروخت کا درست اندازہ لگانا ہے تاکہ جی ایس ٹی کی وصولی میں اضافہ ہو۔ ملک میں لاکھوں تھوک اور پرچون دکانیں ہیں، مگر یہ پابندی صرف ان پر عائد ہوگی جن کا ماہانہ ٹیکس ایک لاکھ یا پانچ لاکھ روپے سے زائد ہو۔ اس سے ٹیکس بھاگنے والوں پر سختی ہوگی اور قومی خزانے کو تقویت ملے گی۔

مالی اثرات اور اعداد و شمار

گزشتہ مالی سال میں ایف بی آر نے ریٹیلرز سے 82 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا، جبکہ تنخواہ دار طبقے نے 600 ارب روپے سے زائد ادا کیے۔ حکومت نے تاجر برادری سے کل 700 ارب روپے کا حصہ لینے کا دعویٰ کیا ہے، جو پہلے 555 ارب روپے بتایا گیا تھا مگر بُک ایڈجسٹمنٹ سے بڑھ گیا۔ یہ نیا ضابطہ ٹیکس وصولی کو شفاف بنائے گا اور تاجروں کی آمدنی کی درست نگرانی ممکن ہوگی، جس سے معاشی استحکام کو فروغ ملے گا۔

یہ بھی پڑھیں: قطری گروپ کا پورٹ قاسم پاور پلانٹ میں ایک ارب ڈالر کا حصہ فروخت کرنے کا فیصلہ

تاجر برادری کا ردعمل

تاجر حلقوں میں اس ضابطے پر مخلوط ردعمل ہے؛ کچھ اسے کاروبار کی ترقی کا ذریعہ سمجھتے ہیں جبکہ دیگر اسے اضافی بوجھ قرار دے رہے ہیں۔ ایف بی آر نے رجسٹریشن کو آسان بنانے کا وعدہ کیا ہے تاکہ چھوٹے کاروبار متاثر نہ ہوں۔

نتیجہ: یہ اقدام پاکستان کے ٹیکس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہے، جو نہ صرف وصولی بڑھائے گا بلکہ معاشی منصوبہ بندی کو بھی مضبوط کرے گا۔ تاجروں کو جلد از جلد رجسٹریشن مکمل کر لینی چاہیے تاکہ جرمانے سے بچا جا سکے۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں