منگل, مارچ 3, 2026
Homeعالمیامریکا کا سعودی عرب کو 48 جدید ایف 35 طیارے دینے پر...

امریکا کا سعودی عرب کو 48 جدید ایف 35 طیارے دینے پر غور

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سعودی عرب کی جانب سے جدید جنگی طیاروں ایف-35 کی 48 یونٹس خریدنے کی درخواست پر غور کر رہی ہے، جو اربوں ڈالر مالیت کا معاہدہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق، یہ معاملہ پینٹاگون کی ابتدائی توثیق سے گزر چکا ہے، جبکہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی متوقع امریکی دورے سے قبل حتمی منظوری کا سلسلہ جاری ہے۔ سعودی عرب نے اس سال کے آغاز میں براہ راست ٹرمپ سے رجوع کیا تھا، اور لاک ہیڈ مارٹن کمپنی کی تیار کردہ یہ سٹیلتھ ٹیکنالوجی والی مشینیں دنیا کی جدید ترین لڑاکا طیاروں میں شمار ہوتی ہیں۔

سعودی درخواست اور امریکی جائزہ

سعودی عرب، جو امریکی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے، کئی سالوں سے ایف-35 طیاروں کی خواہش مند ہے۔ یہ درخواست اس وقت سامنے آئی جب سعودی عرب نے اپنی فضائیہ کی جدید کاری کے لیے براہ راست امریکی صدر سے رابطہ کیا۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، پینٹاگون اب 48 طیاروں کی ممکنہ فروخت کا تفصیلی جائزہ لے رہا ہے، جو سعودی فضائی طاقت کو علاقائی سطح پر نمایاں بنا سکتی ہے۔

علاقائی اثرات اور اسرائیلی خدشات

یہ ممکنہ معاہدہ مشرق وسطیٰ کی فوجی توازن کو تبدیل کر سکتا ہے، خاص طور پر ایران جیسے خطرات کے تناظر میں۔ تاہم، اسرائیل اسے اپنی فوجی برتری کے لیے خطرہ سمجھتا ہے، کیونکہ امریکہ کی پالیسی اسرائیل کی کوالٹیٹو ملٹری ایج کو برقرار رکھنے کی ضمانت دیتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو یہ طیارے ملنے سے علاقائی اتحاد مضبوط ہو سکتا ہے، لیکن اسرائیلی مخالفت اور کانگریس کی منظوری اسے پیچیدہ بنا رہی ہے۔

حتمی منظوری کا عمل

معاہدے کی حتمی منظوری ٹرمپ کابینہ، کانگریس اور صدر کی توثیق کا انتظار کر رہی ہے۔ پینٹاگون، وائٹ ہاؤس اور محکمہ خارجہ نے اب تک خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ سعودی عرب کی ویژن 2030 منصوبے کے تحت یہ خریداری اقتصادی اور دفاعی ترقی کا حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: تھوک اور پرچون فروشوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا نیا ضابطہ نافذ

نتیجہ: نئی دفاعی شراکت داری کی امید

اگر یہ معاہدہ ہو جائے تو سعودی عرب کی فضائی طاقت میں انقلابی تبدیلی آئے گی، جو امریکی سعودی تعلقات کو مزید مستحکم کرے گی۔ تاہم، علاقائی سیاست اور اتحادی مفادات اس کی راہ میں رکاوٹیں ہیں۔ پاکستانی قارئین کے لیے یہ خبر اہم ہے کیونکہ یہ مشرق وسطیٰ کی استحکام پر اثرات مرتب کر سکتی ہے، جہاں پاکستان کے بھی مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں