منگل, مارچ 3, 2026
Homeپاکستانسکھ یاتریوں کے ساتھ آئے 12 ہندو زائرین کو بھارت واپس بھیج...

سکھ یاتریوں کے ساتھ آئے 12 ہندو زائرین کو بھارت واپس بھیج دیا گیا

واہگہ سرحد پر بابا گرونانک دیو جی کی 556ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کے لیے آنے والے سکھ یاتریوں کے ساتھ 12 ہندو یاتریوں کو پاکستانی امیگریشن حکام نے داخلے کی اجازت نہ دے کر واپس بھارت بھیج دیا۔ کل 21 سو سے زائد ویزے جاری کیے گئے تھے، لیکن صرف 1796 سکھ یاتری ہی سرحد عبور کر سکے، جبکہ ہندو یاتریوں کو ان کے مذہبی دستاویزات کی بنیاد پر روک لیا گیا۔ بھارتی حکام نے اسے امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے، جبکہ پاکستان نے واضح کیا کہ داخلہ صرف سکھ جتھے تک محدود ہے۔

سالانہ یاترا کا پس منظر

ہر سال نومبر میں بابا گرونانک کی پیدائش کے موقع پر بھارت سمیت دنیا بھر سے ہزاروں سکھ یاتری پاکستان آتے ہیں تاکہ ننکانہ صاحب اور دیگر مقدس مقامات پر عقیدت پیش کریں۔ 1974 کے پاکستان بھارت معاہدے کے تحت یہ یاترا ممکن ہوتی ہے، جس میں سکھوں کو خصوصی ویزے اور سکیورٹی کلیئرنس دی جاتی ہے۔ اس بار مئی 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی تصادم (آپریشن سندور) کے بعد واہگہ سرحد بند رہی، اور کرتارپور راہدار بھی بند ہے، جس سے یاتریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی وزارت داخلہ نے ابتدائی طور پر یاترا معطل کر دی تھی، مگر دباؤ کے بعد اجازت دی۔

امیگریشن کا فیصلہ اور ردعمل

پاکستانی امیگریشن حکام نے بتایا کہ یہ 12 ہندو یاتری سندھ میں پیدا ہوئے تھے اور اب بھارتی شہری ہیں، مگر ان کی دستاویزات میں مذہب ہندو درج ہونے کی وجہ سے انہیں سکھ جتھے کی بس میں سوار ہونے نہ دیا گیا۔ حکام کا مؤقف ہے کہ ویزا صرف سکھ یاتریوں کے لیے تھا، جبکہ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ یاتری دہلی اور لکھنؤ سے تھے اور تمام رسمیات پوری کر چکے تھے۔ بھارتی افسران نے اسے "شرمناک اور غیر متوقع” قرار دیا، اور کہا کہ یہ ہندو سکھ کمیونٹیز کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ کل تقریباً 300 مسافر، جن میں سکھ بھی شامل تھے، پروسیجرل خامیوں کی وجہ سے روکے گئے۔

ثقافتی روابط اور مستقبل کی امید

اس واقعے نے دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور مذہبی روابط پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ پاکستان نے سکھ یاتریوں کا پرتپاک استقبال کیا، جو ملک کی مذہبی اقلیتوں کے احترام کی عکاسی کرتا ہے، مگر ہندو یاتریوں کا انکار تناؤ کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔ نیشنل اخبار نے لکھا کہ بھارت کو بھی سکھوں کی یاترا کی اجازت دے کر انسانی اقدار کا احترام کرنا چاہیے۔ کرتارپور راہدار کی دوبارہ افتتاح کی مطالبات زور پکڑ رہے ہیں، جو بغیر ویزا سکھوں کو راحت دے سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کا سعودی عرب کو 48 جدید ایف 35 طیارے دینے پر غور

نتیجہ یہ واقعہ پاکستان بھارت تعلقات میں مذہبی آزادی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ جبکہ سکھ یاتریوں کا آنا خوشی کا باعث بنا، ہندو یاتریوں کا واپس بھیجا جانا افسوسناک ہے۔ دونوں حکومتوں کو چاہیے کہ معاہدوں پر عمل کرتے ہوئے تمام عقیدت مندوں کو سہولت دیں، تاکہ امن اور بھائی چارے کی پیغامات زندہ رہیں۔ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے واضح پالیسی کی ضرورت ہے۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں