اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 243 میں مجوزہ ترمیم سے متعلق کوئی بات چیت نہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسودہ سامنے آنے تک خاموشی اختیار کی جائے گی، کیونکہ آئینی ترامیم اتفاقِ رائے سے ہونی چاہییں، نہ کہ اکثریت کی مرضی سے۔ سابق اسپیکر اسد قیصر نے بھی اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا کوئی اختیار نہیں۔ یہ اعلان 27ویں آئینی ترمیم کی بحث کو مزید گرم کر رہا ہے، جو فورسز کی کمانڈ سے متعلق ہے۔
بیرسٹر گوہر کا سخت موقف
بیرسٹر گوہر نے ایک پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ آرٹیکل 243 فورسز کی ساخت سے جڑا ہے اور اس سے پہلے بھی ایسی ترامیم کی کوششیں کی گئی تھیں۔ انہوں نے زور دیا کہ آئین قوم کا مقدس دستاویز ہے، جسے اکثریت کی بنیاد پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ "آئین کی حفاظت سب کی ذمہ داری ہے،” ان کا کہنا تھا۔ پی ٹی آئی کا یہ موقف موجودہ حکومت کی آئینی ترمیموں پر تنقید کو تقویت دے رہا ہے، جو پاکستان کی سیاسی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی آرمی چیف کا غزہ میں تمام سرنگوں کی فوری تباہی کا حکم
اسد قیصر کی حکومت پر تنقید
ادھر، پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر نے کہا کہ حکومت جو بھی بل یا ترمیم لائے گی، تحریک انصاف اسے پارلیمنٹ میں مسترد کر دے گی۔ ان کا موقف ہے کہ اس پارلیمنٹ کے پاس آئینی ترمیم کا کوئی جواز ہی نہیں، کیونکہ اس کی تشکیل معتبر نہیں۔ قیصر نے یہ بھی کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کی ضمانتیں نظر انداز کی جا رہی ہیں، جن میں صوبوں کے حصے کو کم نہ کرنے اور وفاق کو کمزور نہ کرنے کی بات کی گئی تھی۔ یہ بیانات پی ٹی آئی کی حکمت عملی کو اجاگر کر رہے ہیں، جو آئینی بالادستی کی تحریک کو تقویت دے رہی ہے۔
آئین کی اہمیت اور سیاسی اثرات
آئین پاکستان قومی دستاویز ہے جو تمام اداروں کی بنیاد رکھتا ہے۔ بیرسٹر گوہر نے یاد دلایا کہ ترامیم اتفاق سے ہوں تو ہی ملک مستحکم رہ سکتا ہے۔ این ایف سی ایوارڈ جیسی معاہدوں کی خلاف ورزی سے وفاق اور صوبوں کے درمیان تناؤ بڑھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بحث آئندہ سیشنز میں پارلیمنٹ کو منتشر کر سکتی ہے۔
نتیجہ: پی ٹی آئی کا یہ اعلان سیاسی مکالمے کو روک رہا ہے، مگر آئینی عمل کی اہمیت کو اجاگر کر رہا ہے۔ اگر مسودہ سامنے آیا تو نئی بحث شروع ہو سکتی ہے، ورنہ کشیدگی میں اضافہ متوقع ہے۔
