سندھ ہائیکورٹ نے صوبے بھر کے چڑیا گھروں کو مرحلہ وار ختم کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ فیصلہ کراچی چڑیا گھر سے مادہ ریچھ رانو کی منتقلی کے کیس میں جاری کیا گیا، جہاں عدالت نے چڑیا گھروں کی بہتری اور خاتمے کی تجاویز طلب کیں۔ کنزرویٹر جنگلی حیات جاوید مہر کی تجویز پر کمیٹی قائم کی گئی، جو ماہرین کی مدد سے چڑیا گھروں کا دورہ کرے گی اور رپورٹ پیش کرے گی۔ آئندہ سماعت 21 نومبر کو ہوگی۔
کیس کی تفصیلات
سندھ ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے رانو ریچھ کی منتقلی کے کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کیا۔ اس کیس میں عدالت نے دیکھا کہ چڑیا گھروں میں جانوروں کی حالت ناقص ہے، جس کی وجہ سے مرحلہ وار خاتمے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں جانوروں کی فلاح و بہبود کے مسائل پر بحث چل رہی ہے، اور یہ فیصلہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ کراچی چڑیا گھر سمیت صوبے کے دیگر چڑیا گھروں کو قدرتی پارکوں میں تبدیل کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بی پی ایس سی نوکریاں 2025 اشتہار نمبر 7 | آن لائن درخواست فارم
کمیٹی کی ذمہ داریاں
کمیٹی کو متعلقہ شعبوں کے ماہرین کی معاونت حاصل کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ وہ صوبے بھر کے چڑیا گھروں کا دورہ کر کے بہتری کی تجاویز دے گی۔ عدالت کا کہنا ہے کہ چڑیا گھروں کو جدید معیارات پر لانا ضروری ہے، ورنہ ان کا خاتمہ ناگزیر ہو جائے گا۔ یہ اقدام پاکستان میں جنگلی حیات کی حفاظت اور ماحولیاتی توازن کو فروغ دے گا۔
نتیجہ
یہ فیصلہ پاکستان میں جانوروں کی حقوق اور ماحولیاتی تحفظ کی طرف اہم قدم ہے۔ اگر کمیٹی کی تجاویز پر عمل ہوا تو چڑیا گھروں کو قدرتی پناہ گاہوں میں تبدیل کیا جا سکے گا، جو جنگلی حیات کی بقا کو یقینی بنائے گا۔ سندھ حکومت کو اس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ مزید تاخیر نہ ہو۔
