امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی افریقہ میں 22 نومبر کو جوہانسبرگ میں ہونے والے جی 20 اجلاس کا مکمل بائیکاٹ قرار دے دیا ہے۔ سفید فام کسانوں پر نسل کشی اور زمینوں کی غیر قانونی چھیناؤ کے الزامات کو بنیاد بنا کر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ کوئی امریکی عہدیدار اس اجلاس میں شریک نہ ہوگا، جبکہ جنوبی افریقی حکومت نے ان دعووں کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔
ٹرمپ کا سخت موقف صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی افریقہ میں سفید فام افراد کو قتل کیا جا رہا ہے اور ان کی زمینیں چھین لی جا رہی ہیں۔ انہوں نے لکھا، "یہ شرمناک ہے کہ جی 20 جیسا اہم اجلاس ایسے ملک میں ہو رہا ہے جہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں۔” ابتدائی طور پر ٹرمپ نے نائب صدر جے ڈی وینس کو بھیجنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا، مگر اب وائٹ ہاؤس نے واضح کر دیا کہ مکمل بائیکاٹ ہوگا۔ یہ فیصلہ جنوبی افریقہ میں سفید فام اقلیت کے حقوق پر امریکی تشویش کی تازہ ترین مثال ہے، جو ٹرمپ کی انتظامیہ کا دیرینہ نقطہ نظر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روس کا یوکرین پر بڑا حملہ , توانائی نظام اور عمارتوں پر میزائل و ڈرون حملے
جنوبی افریقہ کا ردعمل جنوبی افریقہ کی وزارت خارجہ نے امریکی فیصلے کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ افریکنرز کو صرف سفید فام گروہ کے طور پر پیش کرنا تاریخی غلطی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سفید فام کمیونٹی کے خلاف کوئی منظم مظالم کا ثبوت موجود نہیں۔ مئی میں ٹرمپ اور جنوبی افریقی صدر کی ملاقات کے دوران بھی ایسے الزامات لگے تھے، جنہیں جوہانسبرگ نے مسترد کر دیا۔ حکومت کا موقف ہے کہ ملک میں قانون کی حکمرانی سب کے لیے یکساں ہے اور نسل کشی جیسے دعوے افواہوں پر مبنی ہیں۔
پس منظر اور اثرات ٹرمپ نے ماضی میں بھی جنوبی افریقہ پر سفید فام کسانوں کی نسل کشی کا الزام لگایا، جس کے نتیجے میں افریکنرز کو امریکہ میں پناہ گزین کا درجہ دیا گیا۔ یہ تنازعہ عالمی سطح پر جی 20 جیسے فورمز کو متاثر کر سکتا ہے، خاص طور پر جب پاکستان سمیت دیگر ممالک ترقی اور تجارت پر توجہ مرکوز کر رہے ہوں۔ جنوبی افریقہ جی 20 کی صدارت کر رہا ہے، لہٰذا یہ بائیکاٹ اجلاس کی کامیابی کو چیلنج کر سکتا ہے۔
نتیجہ یہ بائیکاٹ نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو سردمہر کر سکتا ہے بلکہ عالمی معاشی تعاون پر بھی سوالات اٹھاتا ہے۔ جنوبی افریقہ نے امید ظاہر کی ہے کہ دیگر ممالک اجلاس میں فعال شرکت کریں گے، جبکہ امریکہ کا یہ قدم انسانی حقوق کی عالمی بحث کو مزید ہوا دے گا۔ پاکستان کو بھی جی 20 میں اپنے مفادات کی حفاظت کرنی ہوگی، خاص طور پر جنوبی افریقہ کے ساتھ تجارت کے تناظر میں۔
