آج 9 نومبر کو شاعر مشرق اور مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا 148 واں یوم پیدائش ملک بھر میں عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ لاہور میں ان کے مزار پر گارڈ کی تبدیلی کی پروقار تقریب ہوئی، جبکہ سکولوں، کالجوں اور سرکاری اداروں میں سیمینارز، مشاعرے اور تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ علامہ اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں کو آزادی کا خواب دکھایا اور اپنی شاعری سے ان میں خودی کا شعور بیدار کیا، جو آج بھی پاکستان کی بنیاد ہے۔
اقبال کے افکار اور تاریخی خدمات
علامہ محمد اقبال 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور 21 اپریل 1938 کو لاہور میں وفات پائی۔ انہوں نے مسلمانوں کو غلامی سے نجات دلانے کے لیے جداگانہ قومیت کا خیال پیش کیا اور اپنی شاعری جیسے "بانگ درا” اور "بال جبریل” سے امت کو بیدار کیا۔ اقبال کی سوچ نے نہ صرف آزادی کی تحریک کو تقویت دی بلکہ نوجوان نسل کو خود اعتمادی کا درس دیا، جو آج پاکستان کی ترقی کے لیے اہم ہے۔ ان کے افکار میں انسانی روح کی بیداری اور نئی تہذیب کی تعمیر کا پیغام ہے، جو محکوم اقوام کو جدوجہد کی ترغیب دیتا ہے۔
یوم اقبال کی تقریبات کی جھلکیاں
ملک بھر میں یوم اقبال کے موقع پر تقریبات کا سلسلہ جاری ہے۔ لاہور، کراچی، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں طلبہ نے اقبال کی شاعری پڑھی اور ان کی خدمات پر روشنی ڈالی۔ سرکاری سطح پر بھی اس دن کو قومی تعطیل کا درجہ دیا جاتا ہے تاکہ لوگ ان کے پیغام کو یاد کریں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اقبال کی شاعری آج بھی معاشرتی مسائل کے حل کے لیے رہنمائی کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کا بڑا قدم , سفید فام نسل کشی کے الزام پر جنوبی افریقا میں جی 20 اجلاس کا بائیکاٹ
نتیجہ
علامہ اقبال کی سوچ آج بھی پاکستان کے لیے روشنی کا مینار ہے۔ ان کا پیغام خودی اور اتحاد ہمیں مستقبل کی طرف لے جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ان کے افکار کو عملی زندگی میں اپنائیں تاکہ ملک ترقی کرے۔
