سندھ حکومت نے صوبے میں پانی کے وسائل کے مربوط انتظام کو یقینی بنانے کے لیے نیا سندھ واٹر لا متعارف کرانے کی تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ ورلڈ بینک کے وفد سے صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو اور سیکرٹری ظریف اقبال کھیڑو کی حالیہ ملاقات میں سوات منصوبے اور اس قانون کی مسودے پر تفصیلی بات چیت ہوئی، جبکہ محکمہ آبپاشی اور سیڈا کی مشترکہ کمیٹی آئندہ ماہ تک حتمی مسودہ وزارت کو سونپ دے گی۔ وزیر نے کہا کہ یہ قانون کابینہ اور سندھ اسمبلی سے منظور ہونے کے بعد نافذ ہوگا اور سندھ میں پانی کی منصفانہ تقسیم، بہتر انتظام اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔
ورلڈ بینک کے ساتھ اہم مشاورت
ملاقات میں پراجیکٹ ڈائریکٹر نذیر میمن سمیت دیگر افسران نے شرکت کی اور سندھ اسٹریٹجک واٹر پلان کی تیاری، ایچ اے آئی پروگرام کے ادارہ جاتی ڈھانچے پر زور دیا گیا۔ ترجمان کے مطابق، انضمامِ وسائلِ پانی (آئی ڈبلیو آر ایم) کے اصولوں اور سندھ واٹر پالیسی 2023 کی روشنی میں یہ قانون تیار کیا جا رہا ہے، جو صوبے کے زرعی اور شہری علاقوں میں پانی کی قلت کے مسائل حل کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں دفعہ 144 کے تحت عائد پابندیوں میں7 دن کی توسیع
اس موقع پر تمام فریقین نے منصوبے کی مقررہ ٹائم لائنز پر عمل درآمد کا عزم ظاہر کیا، جو سندھ کے پانی کے بحران سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
قانونی مسودے کی حتمی شکل
محکمہ آبپاشی اور سیڈا کے ماہرین پر مشتمل کمیٹی رواں ماہ کے آخر تک مسودے کو حتمی بنانے کا کام مکمل کر لے گی، جس کے بعد اسے صوبائی کابینہ اور اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ یہ اقدام صوبے کی بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں انتہائی اہم ہے، جہاں دریائے سندھ کی تقسیم پر تنازعات کو کم کرنے کا مقصد مرکزی ہے۔
قانون کے متوقع فوائد
نیا واٹر لا نہ صرف کسانوں کو منصفانہ حصہ دے گا بلکہ واٹر شیڈ مینجمنٹ اور آلودگی کی روک تھام پر بھی توجہ مرکوز کرے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ سندھ کی معاشی ترقی کو فروغ دے گا اور پائیدار ترقی کے اہداف کو پورا کرنے میں مددگار ہوگا۔
اختتام: سندھ حکومت کا یہ قدم صوبے کے پانی کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی طرف ایک مثبت پیش رفت ہے، جو تمام سٹیک ہولڈرز کی شمولیت سے مزید مؤثر ہو سکتا ہے۔
