اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں جلد بلدیاتی انتخابات کرانے کی درخواست پر سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں ہونے والی سماعت میں عدالت نے لوکل گورنمنٹ کے فقدان سے پیدا ہونے والی انتظامی مشکلات پر شدید ریمارکس دیے، جبکہ الیکشن کمیشن اور وفاقی حکام نے قانون سازی کی تاخیر کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ یہ فیصلہ پاکستان کی مقامی حکومتوں کی کمزوریوں کو اجاگر کرتا ہے، جو ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کی ضرورت کو مزید واضح کر رہا ہے۔
سماعت کی تفصیلات اور عدالت کی تنقید
عدالت میں الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل لاء، اسسٹنٹ اٹارنی جنرل اور دیگر متعلقہ افسران پیش ہوئے۔ جسٹس کیانی نے واضح الفاظ میں کہا کہ بلدیاتی انتخابات نہ ہونے سے دارالحکومت کا انتظامی نظام مفلوج ہو چکا ہے۔ پراپرٹی ٹیکس کی وصولی ممکن نہیں، ترقیاتی کام رکے ہوئے ہیں اور عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ ایسے حالات میں شہریوں کے بنیادی حقوق کیسے یقینی بنائے جائیں۔ یہ ریمارکس پاکستان کی وفاقی سطح پر مقامی حکومتیں چلانے کی ناکامی کو عیاں کرتے ہیں، جہاں بلدیاتی انتخابات کی تاخیر ملک بھر میں پھیل رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈبل سواری پر مکمل پابندی! صوبے بھر میں بڑا فیصلہ جاری
حکام کے موقف اور قانونی رکاوٹیں
الیکشن کمیشن کے ڈی جی لاء نے بتایا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 کی حالیہ ترامیم میں پیچیدگیاں ہیں، جو انتخابات کا انعقاد روک رہی ہیں۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے واضح کیا کہ قانون سازی پارلیمنٹ کا اختیار ہے، جس کی وجہ سے عمل میں تاخیر ہوئی۔ عدالت نے اس پر سخت ردعمل دیا اور کہا کہ پارلیمنٹ آئین کی تشریح میں الجھ گئی ہے، جبکہ غلط قوانین کو درست کرنے میں وقت ضائع ہوتا ہے۔ ان ریمارکس سے واضح ہوتا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کی تاخیر صرف قانونی نہیں بلکہ انتظامی نااہلی کا نتیجہ ہے، جو اسلام آباد جیسے شہر کی ترقی کو متاثر کر رہی ہے۔
نتیجہ: انتخابات کی راہ ہموار ہو گی؟
عدالت کا یہ فیصلہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کو تیز کرنے کا اشارہ دے سکتا ہے، جو ملک بھر میں مقامی سطح کی جمہوریت کو مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ اگر فیصلہ مثبت آیا تو شہری مسائل جیسے صفائی، ٹیکس اور ترقیاتی منصوبوں میں بہتری ممکن ہے۔ تاہم، پارلیمنٹ کی تاخیر سے وفاقی دارالحکومت کی انتظامی کمزوریاں مزید گہری ہو سکتی ہیں۔ پاکستانی شہریوں کو امید ہے کہ یہ سماعت مقامی انتخابات کی بحالی کا باعث بنے گی، جو جمہوری نظام کی بنیاد ہے۔
