بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب پیر کی شام ایک کار میں زوردار دھماکہ ہوا، جس میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور چوبیس زخمی ہوگئے۔ عینی شاہد دھرمندر کے بیان نے حکومتی بیانیے پر سوال اٹھا دیے ہیں، جو گاڑی کی قسم، نمبر پلیٹ اور ہلاک شدگان کے ناموں میں تضادات بیاں کر رہے ہیں۔ دہلی فائر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق دھماکے سے چھ گاڑیاں اور تین رکشے آگ کا شکار ہوگئے، جبکہ پولیس نے دہشت گردی کا الزام لگا دیا ہے۔
واقعہ کی تفصیلات دھماکہ لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے گیٹ نمبر ایک کے قریب شام ساڑھے سات بجے پیش آیا، جب ٹریفک کا رش عروج پر تھا۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، دھماکہ ایک سفید رنگ کی ماروتی کار میں ہوا، جس سے آس پاس کی عمارتیں ہل گئیں۔ ہلاکتیں اسپتالوں میں پہنچائی گئی لاشوں کی بنیاد پر تصدیق ہوئیں، جبکہ زخمیوں کو فوری طبی امداد دی گئی۔ دہلی پولیس نے یو اے پی اے اور دھماکہ خیز مواد ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے، اور شہر بھر میں ہائی الرٹ جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 27 ویں کے بعد 28 ویں ترمیم بھی آرہی ہے، رانا ثنا اللہ
عینی شاہد کا بیان اور تضادات عینی شاہد دھرمندر، جو قریبی رہائشی ہیں، نے بتایا کہ کار کے اندر چار جلی ہوئی لاشیں ملیں، جبکہ باہر دو افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔ ان کے مطابق گاڑی سفید ماروتی تھی، جس کی نمبر پلیٹ ہریانہ کے محمد ندیم کے نام پر درج تھی۔ تاہم، گھریلو وزیر اعمیت شاہ اور میڈیا نے اسے ہونڈا کار اور مالک کا نام سلمان یا طارق بتایا ہے۔ یہ تضادات سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئے ہیں، جہاں لوگ حکومتی بیانیے پر شک ظاہر کر رہے ہیں۔
حکومتی ردعمل اور اثرات مودی حکومت نے فوری طور پر دہشت گردی کا الزام لگا دیا، مگر عینی شاہد کے بیان نے ان دعوؤں کو چیلنج کر دیا ہے۔ ممبئی سمیت دیگر شہروں میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، اور عالمی رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ یہ واقعہ ہندوستانی سیاست میں تنازعات کو ہوا دے سکتا ہے، خاص طور پر الیکشن کے قریب۔
نتیجہ نئی دہلی کا یہ دھماکہ نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع ہے بلکہ معلومات کی شفافیت پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ عینی شاہد کے بیان سے معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے، اور تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ سچ سامنے آئے۔ پاکستان سمیت خطے کے ممالک کو ایسے واقعات پر احتیاط برتنی چاہیے، جبکہ امن کی کوششیں جاری رکھی جائیں۔
