مغربی پابندیوں اور امریکی دباؤ کی وجہ سے بھارت نے روس سے خام تیل کی خریداری میں شدید کمی کر دی ہے، جس سے دسمبر کے لیے اہم آرڈرز روک دیے گئے ہیں۔ بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی پانچ بڑی تیل ریفائنریوں نے روسی تیل کے کوئی نئے معاہدے نہیں کیے، جبکہ سرکاری کمپنی آئی او سی نے اعلان کیا ہے کہ وہ صرف غیر پابندی زدہ ذرائع سے تیل حاصل کرے گی۔ اس اقدام سے یوکرین تنازع میں روس کی معاشی مدد کم ہونے کا امکان ہے، جبکہ بھارت امریکی ٹیرف سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔
رپورٹ کی تفصیلات
بلوم برگ کی تازہ رپورٹ بتاتی ہے کہ بھارت کی تیل ریفائنریاں، جو روس سے سستے تیل کی بڑی خریدار تھیں، نے آئندہ ماہ کے لیے کوئی آرڈرز نہیں دیے۔ عام طور پر یہ آرڈرز نوامبر کی دس تاریخ تک طے ہو جاتے ہیں، مگر اس بار خاموشی سادہ ہے۔ اس سے روسی تیل کی برآمدات پر براہ راست اثر پڑے گا، کیونکہ بھارت روس کا دوسرا سب سے بڑا تیل خریدار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قدم امریکی پابندیوں کے خدشے کی وجہ سے اٹھایا گیا، جو یوکرین جنگ کی وجہ سے روس پر سخت ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کو نئی دہلی دھماکے کی تحقیقات میں مدد کی پیشکش کی، مارکو روبیو
امریکی اقدامات اور بھارتی ردعمل
امریکا نے روس سے تیل کی خریداری پر بھارت کو 50 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد نئی دہلی نے یقین دہانی کرائی کہ وہ روس سے تیل نہیں خریدے گا۔ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں کہا کہ بھارت ایک اچھا تجارتی ساتھی نہیں، کیونکہ وہ روس کو یوکرین جنگ کے لیے ایندھن فراہم کر رہا ہے۔ بھارتی سرکاری ریفائنری آئی او سی کا اعلان کہ وہ صرف معتبر سپلائرز سے تیل لے گی، اس دباؤ کی واضح نشانی ہے۔ اس سے بھارت کی توانائی کی ضروریات متاثر ہونے کا خطرہ ہے، مگر امریکی روابط مضبوط کرنے کی کوشش نظر آ رہی ہے۔
نتائج اور مستقبل کی جھلکیاں
اس فیصلے سے عالمی تیل مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر جنوبی ایشیا میں جہاں بھارت ایک بڑا کھلاڑی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ موقع ہو سکتا ہے کہ وہ متبادل ذرائع تلاش کریں، مگر امریکی پابندیوں کا دائرہ وسیع ہونے کا خدشہ ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ بھارت اب مشرق وسطیٰ اور دیگر علاقوں سے تیل کی طرف مائل ہوگا، جو روس کی معیشت کو مزید دباؤ میں ڈالے گا۔ مجموعی طور پر، یہ قدم جیو پولیٹیکل توازن کی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔
