منگل, مارچ 3, 2026
Homeپاکستاناپوزیشن کا چیئرمین سینیٹ اور حکومت پر فلور کراسنگ کی حمایت کا...

اپوزیشن کا چیئرمین سینیٹ اور حکومت پر فلور کراسنگ کی حمایت کا الزام

اسلام آباد: اپوزیشن جماعتوں نے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی اور وفاقی حکومت پر فلور کراسنگ کی حمایت کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹرز نے کہا کہ حکومت اور اس کے اتحادی لوٹا کریسی اور بدعنوانی کے ساتھ کھڑے ہیں، جبکہ چیئرمین سینیٹ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹر سیف اللہ ابڑو اب بھی ایوان کے رکن ہیں اور انہوں نے استعفیٰ نہیں دیا۔ یہ تنازعہ سینیٹ اجلاس کے دوران سامنے آیا، جو پاکستان کی پارلیمانی سیاست میں نئی کشیدگی کا باعث بنا ہے۔

اپوزیشن کے الزامات

پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے سخت لہجے میں کہا کہ حکومت اور اتحادیوں نے واضح کر دیا ہے کہ وہ فلور کراسنگ اور کرپشن کی حمایت کر رہے ہیں۔ انہوں نے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فلور پر کھڑے ہو کر استعفیٰ کا اعلان کیا تھا، اور پارٹی ہدایات کے خلاف ووٹ دینے والے پر آئین کی دفعہ 63 اے کا اطلاق ہوتا ہے۔ اسی طرح پی ٹی آئی کے سینیٹر ہمایوں مہمند نے چیئرمین سینیٹ کی جانب سے فلور کراسنگ کی حمایت کو ناقابل قبول قرار دیا۔

جے یو آئی ف کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بھی نون لیگ پر تنقید کی اور کہا کہ انہوں نے ہماری جماعت پر بھی نقب لگائی ہے۔ انہوں نے نون لیگ کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے اچھا نہیں کیا، جو پاکستان کی جمہوری روایات کے خلاف ہے۔

چیئرمین سینیٹ کا ردعمل

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے اپوزیشن کے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے انہیں کوئی استعفیٰ نہیں دیا اور وہ اب بھی سینیٹ کے رکن ہیں۔ گیلانی کا کہنا تھا کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں اور پارلیمانی روایات کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایوان کو چلانے کے لیے تمام اراکین کی ذمہ داری ہے، اور فلور کراسنگ جیسے معاملات آئین کے مطابق حل ہونے چاہییں۔

یہ بھی پڑھیں: آرمی ایکٹ ترمیمی بل منظوری کیلئے آج سینیٹ میں پیش ہوگا، اجلاس کا ایجنڈا جاری

نتیجہ

یہ تنازعہ پاکستان کی پارلیمانی سیاست میں نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے، جہاں فلور کراسنگ اور پارٹی وفاداری کے مسائل بار بار سامنے آتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئین کی دفعہ 63 اے جیسے قوانین کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جمہوریت مستحکم رہے۔ حکومت اور اپوزیشن کو مل کر ایسے مسائل حل کرنے چاہییں تاکہ قومی مفادات متاثر نہ ہوں۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں