منگل, مارچ 3, 2026
Homeپاکستانپنجاب میں فضائی معیار بدستور خراب، لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں...

پنجاب میں فضائی معیار بدستور خراب، لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں دوسرے نمبر پر

لاہور سمیت پنجاب کے متعدد شہروں میں فضائی آلودگی کا الارمنگ سطح پر پہنچ جانے سے صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔ عالمی ماحولیاتی ویب سائٹ آئی کیو ایئر کے مطابق، لاہور کا اے کیو آئی انڈیکس صبح کے وقت 439 ریکارڈ کرتے ہوئے دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر پہنچ گیا، جبکہ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی 519 کے ساتھ سرفہرست ہے۔ گوجرانوالہ میں پارٹیکولیٹ میٹرز کی مقدار 808 اور فیصل آباد میں 507 تک پہنچ گئی، جو انتہائی خطرناک سطح کی نشاندہی کرتی ہے۔

لاہور کی سموگ لپیٹ میں صبح کی شروعات

صبح سویرے لاہور کی فضا گھنے دھویں اور سموگ کی وجہ سے مکمل طور پر دھندلا گئی تھی۔ شہریوں کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، خاص طور پر بچوں، بوڑھوں اور دمہ کے مریضوں کے لیے یہ صورتحال جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ سڑکوں پر گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور صنعتی دھوئیں نے آلودگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم کی تبدیلی اور سردی کی آمد نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں پانچ مزید سہولت بازار جلد عوام کے لیے کھل جائیں گے

پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی خراب فضائی معیار

پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی حالات فکر انگیز ہیں۔ گوجرانوالہ میں اے کیو آئی کی سطح 808 تک جا پہنچی، جو دنیا کی سب سے زیادہ آلودگی کی نشاندہی کرتی ہے، جبکہ فیصل آباد میں 507 ریکارڈ ہوا۔ ملتان، راولپنڈی اور سیالکوٹ جیسے شہروں میں بھی پارٹیکولیٹ میٹرز کی مقدار محفوظ حد سے کئی گنا تجاوز کر گئی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف انسانی صحت بلکہ فصلوں اور مویشیوں کو بھی متاثر کر رہی ہے۔

عالمی فہرست میں پاکستان کا نمایاں مقام

عالمی سطح پر نئی دہلی کے بعد لاہور کا دوسرا نمبر پنجاب کی ماحولیاتی پالیسیوں پر سوال اٹھاتا ہے۔ بھارت اور پاکستان دونوں ممالک میں سردی کے موسم میں سموگ کا مسئلہ عام ہے، مگر پاکستان میں فوری اقدامات کی کمی نظر آ رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق، ایسی آلودگی ہر سال ہزاروں اموات کا سبب بنتی ہے۔

نتیجہ: فوری اقدامات کی ضرورت حکومت کو فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات اٹھانے چاہییں، جیسے صنعتی چمنیوں پر فلٹرز لگانا، ٹریفک کنٹرول اور عوامی آگاہی مہمات۔ شہری بھی ماسک کا استعمال اور گھروں میں ایئر پوریفائرز استعمال کرکے خود کو بچا سکتے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو صحت کا بحران مزید گہرا ہو جائے گا۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ کلاؤڈ سیمنگ اور سبز پٹیوں کی توسیع سے صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں