امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے خلاف اگلے ہفتے امریکہ میں ایک ارب ڈالر یا اس سے زائد کا ہرجانہ وصول کرنے کے لیے قانونی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بی بی سی پر 2024 میں نشر ہونے والی دستاویزی فلم میں اپنی تقریر کی غلط ایڈیٹنگ کا الزام لگایا، جس پر بی بی سی نے معافی مانگ لی مگر معاوضہ دینے سے انکار کر دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے بھی اس معاملے پر بات ہوگی۔
ٹرمپ کا شدید ردعمل
صدر ٹرمپ نے ایئر فورس ون کے طیارے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بی بی سی کو "جعلی خبر” پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ ان کے وکلاء کی رائے کے مطابق، دستاویزی فلم میں ان کی تقریر کے الفاظ تبدیل کیے گئے، جو توہین آمیز ہے۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ مقدمہ امریکہ میں دائر کیا جائے گا، جہاں قانونی بنیاد مضبوط ہے۔ انہوں نے برطانوی قیادت سے بھی رابطے کی نشاندہی کی، جو اس تنازعے کو عالمی سطح پر لے جا سکتا ہے۔
بی بی سی کا موقف اور معافی
بی بی سی نے گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ سے ذاتی طور پر معافی مانگ لی، مگر ہرجانے کے مطالبے کو مسترد کر دیا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ 2024 کی دستاویزی فلم میں ایڈیٹنگ کی غلطی ہوئی، جو اب درست کی جا چکی ہے اور اسے دوبارہ نشر نہیں کیا جائے گا۔ بی بی سی کے ترجمان نے زور دیا کہ قانونی طور پر کوئی بنیاد نہیں، اور یہ معاملہ برطانوی قوانین کے تحت حل ہوگا۔ تاہم، ٹرمپ کی دھمکی سے میڈیا کی آزادی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ممکنہ عالمی اثرات
یہ تنازعہ امریکہ اور برطانیہ کے درمیان سفارتی تعلقات کو متاثر کر سکتا ہے۔ پاکستانی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کی یہ حکمت عملی ان کی مقبولیت بڑھانے کی کوشش ہے، جبکہ بی بی سی جیسی آزاد میڈیا کی ساکھ کو چیلنج کرتی ہے۔ برطانوی وزیراعظم اسٹارمر کی جانب سے ردعمل کا انتظار ہے، جو دونوں ممالک کی تجارت اور الائنسز پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں بارش سے تباہی میں اضافہ، پناہ گزینوں کے خیمے ڈوب گئے، باقی بچا سامان بھی پانی میں بہہ گیا
نتیجہ: کیا ہوگا آگے؟
ٹرمپ کی قانونی کارروائی میڈیا اداروں کے لیے ایک مثال بن سکتی ہے، جہاں سیاسی رہنماؤں کی تنقید پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ بی بی سی کی مزاحمت سے معاملہ طول پکڑ سکتا ہے، مگر یہ امریکی صدارت کی طاقت کو بھی چیلنج کرے گا۔ پاکستانی میڈیا کے لیے یہ سبق ہے کہ صحافتی ذمہ داریاں کس قدر اہم ہیں۔
