غزہ میں نافذ جنگ بندی معاہدے کی اسرائیلی فوج کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں، جہاں اتوار کو جنوبی غزہ کے شہر خان یونس مشرق میں بمباری سے تین فلسطینی شہید ہوگئے۔ اس کے علاوہ غزہ شہر کے زیتون محلے اور رفح کے قریب علاقوں پر بھی حملے کیے گئے، جبکہ رواں سال اکتوبر میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے 274 سے زائد فلسطینی شہید اور 1500 سے زیادہ عمارتیں تباہ ہوچکی ہیں۔ مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر طوباس میں فائرنگ سے ایک فلسطینی شہید ہوا، جبکہ جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے امن فورسز پر اسرائیلی ٹینک کی فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ دوسری جانب اسرائیلی حکومت نے 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملوں کی تحقیقات کے لیے آزاد کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، مگر عوام ریاستی کمیشن کا مطالبہ کررہے ہیں۔ دو سالہ جنگ میں 69 ہزار 400 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔
غزہ میں بمباری کی تفصیلات
جنوبی غزہ کے خان یونس میں اسرائیلی فضائی حملے نے تین فلسطینیوں کی جانیں لے لیں، جبکہ ناصر میڈیکل کمپلیکس میں شہداء کی لاشوں کو پہنچایا گیا۔ غزہ شہر کے زیتون علاقے اور رفح کے آس پاس بھی گولہ باری کی گئی، جس سے خوف و دہشت کا ماحول پیدا ہوگیا۔ فلسطینی حکام کے مطابق، جنگ بندی کے باوجود ایسے حملے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں، جو امن کی کوششوں کو سبوتاژ کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لیبیا کے ساحل پر تارکین وطن کی دو کشتیاں الٹ گئیں، 4 افراد ہلاک
مغربی کنارہ اور لبنان میں واقعات
مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر طوباس میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک فلسطینی شہید ہوگیا، جو علاقائی تناؤ کو مزید بڑھا رہا ہے۔ ادھر جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے امن فورسز پر اسرائیلی ٹینک کی فائرنگ کا واقعہ رونما ہوا، جسے اسرائیلی فوج نے خراب موسم کی وجہ سے مشتبہ سمجھنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ واقعات علاقائی استحکام کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔
7 اکتوبر حملوں کی تحقیقات
اسرائیلی حکومت نے 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملوں کی تحقیقات کے لیے آزاد تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے، تاہم عوامی سطح پر ریاستی کمیشن کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ یہ قدم سیاسی دباؤ کا نتیجہ لگتا ہے، مگر تنقید کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صرف وقت کی ضائع کاری ہے۔
اختتام: امن کی راہ میں رکاوٹیں
غزہ اور فلسطینی علاقوں میں جاری تشدد امن عمل کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے، جہاں ہزاروں بے گناہ جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ عالمی برادری کو فوری مداخلت کرنی چاہیے تاکہ مستقل جنگ بندی ممکن ہو، اور فلسطینیوں کے حقوق کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔ پاکستان سمیت مسلم دنیا ان واقعات کی شدید مذمت کررہی ہے۔
