ہونڈا اطلس کارز پاکستان لمیٹڈ نے مالی سال 2026 کے پہلے نصف حصے کی مالیاتی نتائج کا اعلان کیا ہے، جس میں ٹیکس کے بعد منافع 15 کروڑ 71 لاکھ روپے تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے 4 کروڑ 60 لاکھ روپے کے مقابلے میں 242 فیصد یا 3.4 گنا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ دوسرے سہ ماہی میں منافع 7 کروڑ 42 لاکھ روپے رہا، جو 2.9 گنا زیادہ ہے۔ کل فروخت 518 کروڑ 80 لاکھ روپے ہوئی، جو 59 فیصد اضافہ دکھاتی ہے، جبکہ گاڑیوں کی کل مقدار 11 ہزار 818 یونٹس تک بڑھ گئی۔ یہ اضافہ نئی ہائبرڈ کار ایچ آر وی اور سٹی 1.5 ایل ایسپائر ایس سی وی ٹی کی لانچنگ سے ہوا، جس نے مارجن کو 8.1 فیصد تک بہتر بنایا۔
فروخت میں زبردست اضافہ اور نئی ماڈلز کی طاقت
پہلے نصف سال میں ہونڈا اطلس کی نیٹ سیلز 325 کروڑ 67 لاکھ روپے سے بڑھ کر 518 کروڑ 80 لاکھ روپے ہو گئیں، جو 59 فیصد کی شرح اضافہ کی عکاسی کرتی ہے۔ عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق، یہ اضافہ کل حجم میں 34 فیصد کی بہتری سے ممکن ہوا، جس میں سولک اور سٹی کی 10 ہزار 168 یونٹس اور بی آر وی و ایچ آر وی کی 1650 یونٹس شامل ہیں۔ دوسرے سہ ماہی میں سیلز 53 فیصد بڑھ کر 254 کروڑ 18 لاکھ روپے رہیں، جو اگست 2025 میں ایچ آر وی ہائبرڈ اور ستمبر میں سٹی 1.5 ایل کی لانچنگ سے تقویت پائیں۔ یہ نئی گاڑیاں پاکستانی مارکیٹ میں ماحول دوست اور جدید ٹیکنالوجی کی مانگ پوری کر رہی ہیں، جو مقامی صنعت کو فروغ دے رہی ہیں۔
مارجن کی بہتری اور مالیاتی چیلنجز
مجموعی مارجن 6.9 فیصد سے بڑھ کر 8.1 فیصد ہو گئے، جبکہ دوسرے سہ ماہی میں یہ 7.4 فیصد پر مستحکم رہے۔ دیگر آمدنی 483 فیصد اضافے سے 4 کروڑ 95 لاکھ روپے تک پہنچی، جو کیش بیلنس کی بہتری سے ممکن ہوئی۔ تاہم، فنانس کاسٹ 63 فیصد بڑھ کر 3 کروڑ 15 لاکھ روپے ہوئی، جو قرضوں کی وجہ سے تھی۔ ٹیکس ریٹ 39.6 فیصد سے کم ہوکر 33.9 فیصد رہا، جو مجموعی منافع کو سہارا دے رہا ہے۔ یہ اعداد و شمار کمپنی کی آپریشنل کارکردگی کو مضبوط بناتے ہیں، اگرچہ خام مال کی قیمتیں اب بھی ایک عنصر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایشز سیریز: پہلے ٹیسٹ میچ کے لیے آسٹریلیا کی پلیئنگ الیون کا اعلان کر دیا گیا
مستقبل کی راہ ہموار
یہ نتائج ہونڈا اطلس کی بحالی کی نشاندہی کرتے ہیں، جو پاکستانی آٹو سیکٹر میں اعتماد بحال کر رہے ہیں۔ نئی ماڈلز کی مقبولیت اور مارجن کی بہتری سے توقع ہے کہ اگلے سہ ماہی میں مزید ترقی ہوگی، خاص طور پر ہائبرڈ ٹیکنالوجی کی مانگ میں اضافے سے۔ صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ معاشی استحکام کی علامت ہے، جو صارفین کو جدید گاڑیاں دستیاب کروائے گا۔ کمپنی کو اب درآمد شدہ پرزوں کی لاگت پر توجہ دینی چاہیے تاکہ منافع کی یہ لہر برقرار رہے۔
