وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالا جیل کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں واضح کیا کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، انہوں نے پولیس یا کسی ادارے کو کسی امیدوار کی حمایت کی ہدایت نہیں دی بلکہ انتخابات میں دھاندلی روکنے کی تاکید کی تھی۔ انہوں نے عمران خان سے ملاقات میں رکاوٹوں پر بھی افسوس کا اظہار کیا جبکہ الیکشن کمیشن نے ان کے مبینہ دھمکی آمیز الفاظ پر نوٹس جاری کرتے ہوئے این اے 18 ضمنی انتخاب کی سیکورٹی کو یقینی بنانے کی ہدایات دی ہیں۔
سہیل آفریدی کا بیان اور عمران خان سے ملاقات کی پریشانی اڈیالا جیل کے باہر بات کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کے پاس عمران خان سے ملاقات کے عدالتی احکامات موجود ہیں مگر انہیں روکا جا رہا ہے، جو آئینی اور جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کو پہلے ہی درخواست کی تھی کہ مداخلت کریں اور ملاقات کی اجازت دیں، تاکہ صوبہ و وفاق کے درمیان بہتر تعلقات قائم ہوں، مگر ملنے والا جواب مایوس کن تھا۔ آفریدی نے مزید کہا کہ جب کچھ بولتے ہیں تو فوری مقدمہ درج ہو جاتا ہے، جو جمہوریت کے لیے خطرہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم نے مون سون 2026 کے منصوبے کی منظوری دے دی
ایبٹ آباد جلسے کا پس منظر اور الیکشن کمیشن کا نوٹس یاد ہو کہ ایبٹ آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے انتظامیہ اور پولیس کو خبردار کیا تھا کہ الیکشن دن کوئی بدمزگی نہ ہو ورنہ عہدوں پر نہ رہیں گے، جسے الیکشن کمیشن نے دھمکی آمیز قرار دیا۔ کمیشن نے سیکرٹری دفاع اور داخلہ سے نوٹس لینے کی درخواست کی ہے۔ ترجمان ای سی پی کے مطابق، چیف ایگزیکٹو کے غیر ذمہ دارانہ رویے سے این اے 18 میں ضمنی انتخاب مشکل ہو گیا، ضلعی عملے، ووٹرز اور پولنگ اسٹیشنوں کو خطرہ لاحق ہے۔
الیکشن کمیشن کی سیکورٹی ہدایات الیکشن کمیشن نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر، ریٹرننگ آفیسر، انتخابی عملے اور ووٹرز کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ پولنگ اسٹیشنوں اور آر او آفس کی جانب نقل و حرکت کے دوران سخت سکیورٹی کے انتظامات کیے جائیں، جبکہ کسی بھی مداخلت کی کوشش پر سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ یہ اقدامات انتخابی عمل کی شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں۔
نتیجہ: جمہوریت کی حفاظت کی ضرورت سہیل آفریدی کی وضاحت سے واضح ہے کہ سیاسی بیانات کو غلط رنگ نہ دیا جائے، مگر الیکشن کمیشن کی تشویش بھی جائز ہے۔ پاکستان میں انتخابات کی شفافیت اور سیکورٹی کو یقینی بنانا سب کی ذمہ داری ہے، تاکہ جمہوری عمل مضبوط ہو۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی ہی مسائل کا حل ہے۔
