لندن (نواء ٹائمز اردو) ـ برطانیہ کی حکومت نے امیگریشن نظام کی اب تک کی سب سے بڑی تبدیلیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ پاکستانی نژاد وزیرداخلہ شابانہ محمود نے پارلیمنٹ میں نئی پالیسی پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب مستقل رہائش حق نہیں بلکہ “اعزاز” ہے جو محنت، انضمام اور قوانین کی پاسداری سے کمائی جائے گی۔ نئی تجاویز کے تحت قانونی تارکینِ وطن کو بھی مستقل رہائش (انڈیفنیٹ لیو ٹو ریمین) کے لیے کم از کم دس سال انتظار کرنا ہوگا جبکہ غیر قانونی طور پر داخل ہونے والوں، ویزا اوور سٹے کرنے والوں یا انسانی حقوق کے دعووں پر رہنے والوں کو 30 سال تک کا انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
شابانہ محمود نے کہا کہ موجودہ نظام “ٹوٹ چکا ہے” اور اب اسے منصفانہ، شراکت اور انضمام پر مبنی بنایا جا رہا ہے۔ فوائد، سوشل ہاؤسنگ اور دیگر سہولیات صرف برطانوی شہریوں کو ملیں گی، تارکینِ وطن کو شہریت ملنے تک انتظار کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی کی لوڈشیڈنگ کیخلاف پٹیشن، عدالتی حکم پر نیپرا کی تحقیقاتی ٹیم کی کراچی آمد
مستقل رہائش کی نئی شرائط اور مدت
اب مستقل رہائش کی اہلیت کے لیے برطانیہ میں قانونی قیام کی مدت پانچ سے بڑھا کر دس سال کر دی گئی ہے۔ درخواست گزار کا کریمنل ریکارڈ مکمل طور پر صاف ہونا چاہیے، انگریزی زبان پر اے لیول کے معیار جتنی مہارت ہو، ملک یا این ایچ ایس پر کوئی قرض نہ ہو اور مسلسل نیشنل انشورنس اور ٹیکس ادا کیا ہو۔ یہ قوانین 2021 کے بعد آنے والے تقریباً 26 لاکھ تارکینِ وطن سمیت پہلے سے موجود افراد پر بھی लागو ہوں گے۔
کون جلدی مستقل رہائش لے سکے گا؟
این ایچ ایس کے ڈاکٹرز اور نرسوں کو پانچ سال بعد، اعلیٰ صلاحیتوں والے، زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے اور انٹرپرینیورز کو صرف تین سال بعد مستقل رہائش کی درخواست دینے کی اجازت ہوگی۔ اس کے مقابلے میں کم ہنرمند ملازمتوں یا فوائد پر انحصار کرنے والوں کو 15 سے 20 سال اور غیر قانونی داخلے والوں کو 30 سال تک انتظار کرنا پڑے گا۔
شابانہ محمود نے اپنے والدین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، “میرے والد صاحب بھی بہتر زندگی کی تلاش میں برطانیہ آئے، محنت کی، انضمام کیا اور شہری بن گئے۔ اب بھی یہی راستہ ہوگا۔ جو ملک میں حصہ ڈالیں گے، وہی مستقل رہائش کے مستحق ہوں گے۔”
یہ تبدیلیاں برطانیہ میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں، بھارتیوں اور دیگر کمیونٹیز کے لیے نہایت اہم ہیں۔ بہت سے لوگوں کے خواب اب مزید دس بیس سال پیچھے چلے گئے ہیں جبکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہنرمند پاکستانیوں کے لیے دروازے اب بھی کھلے ہیں۔
