کراچی میئر مرتضیٰ وہاب نے اعلان کیا ہے کہ گرین لائن کامن کوریڈور کی تعمیر اب تک کی تاخیروں اور شہریوں کی مشکلات کے باوجود تکمیل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ وفاقی حکومت نے اس کی افتتاحی تاریخ 31 اکتوبر 2026 مقرر کر دی ہے، جبکہ ریڈ لائن پروجیکٹ کے متنازع مسائل بھی حل ہو گئے ہیں اور اس کی رسمی کام شروع ہونے والا ہے۔ میئر کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا، مگر اب شہری اور وفاقی حکام کے درمیان بہتر ہم آہنگی قائم ہو گئی ہے، جو شہر کی ٹریفک مسائل کو کم کرنے میں اہم ثابت ہو گی۔
تعمیراتی مرحلے کی چیلنجز اور شہری اثرات
گرین لائن پروجیکٹ کی تعمیر کے دوران کراچی کے رہائشیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جہاں سڑکوں کی بندش اور نقل و حمل کی رکاوٹوں نے روزمرہ زندگی کو متاثر کیا۔ مرتضیٰ وہاب نے تسلیم کیا کہ یہ مرحلہ شہریوں کے لیے تکلیف دہ رہا، لیکن اب جبکہ پروجیکٹ مکمل ہونے کو ہے، تو یہ روٹ شہر کی ٹریفک کو نمایاں طور پر آسان بنا دے گا۔ ماہرین کے مطابق، یہ بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم ہزاروں مسافروں کو فائدہ پہنچائے گا اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی لائے گا۔
وقت کا تعین اور اداروں کے درمیان تعاون
میئر وہاب نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے تمام تکنیکی اور انتظامی مسائل کو حل کرتے ہوئے افتتاح کی حتمی تاریخ طے کر دی ہے۔ ابتدائی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے، اب کے ایم سی اور وفاقی محکموں کے درمیان قریبی رابطہ کاری بڑھ گئی ہے، جو مستقبل کے میگا پروجیکٹس کے لیے مثالی ہو گی۔ یہ ترقی کراچی کی عوامی ٹرانسپورٹ کو جدید بنانے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
ریڈ لائن پروجیکٹ کی نئی شروعات
اس کے علاوہ، ریڈ لائن پروجیکٹ کے لٹکے ہوئے معاملات کو بھی حتمی طور پر نمٹا دیا گیا ہے۔ میئر کے مطابق، آنے والے دنوں میں اس کی رسمی بنیاد رکھی جائے گی، جو شہر کی دوسری اہم ٹرانزٹ لائن ہو گی۔ یہ دونوں پروجیکٹس مل کر کراچی کی نقل و حمل کو انقلابی سطح پر بہتر بنائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: الیکشن میں کامیابی عوام کے حکومتی کارکردگی پر اعتماد کی عکاس ہے، وزیراعظم
نتیجہ: شہری فلاح کی طرف پیش رفت
یہ اعلان کراچی کے لاکھوں شہریوں کے لیے خوش آئند ہے، جو برسوں سے عوامی ٹرانسپورٹ کی بہتری کا منتظر تھے۔ حکومت کی سنجیدگی سے شہر کی ترقی کو نئی بلندیوں پر لے جانے کا عزم نظر آتا ہے، مگر کامیابی اسی صورت میں ممکن ہے جب تعمیراتی مراحل میں شہری سہولیات کو ترجیح دی جائے۔
