منگل, مارچ 3, 2026
Homeعالمیعمران خان سے منگل کو ملاقات کی اجازت دی جاسکتی ہے: بیرسٹر...

عمران خان سے منگل کو ملاقات کی اجازت دی جاسکتی ہے: بیرسٹر عقیل ملک

وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ سکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے منگل کو ملاقات کی اجازت دی جا سکتی ہے، تاہم یہ جیل کے قواعد اور ضابطوں کے مطابق ہوگی۔ انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام ‘آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ’ میں گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ پی ٹی آئی سیاسی نوعیت کی ملاقات چاہتی ہے، لیکن انتظامیہ سب کی حفاظت کو یقینی بنائے گی اور احتجاج آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر کیے جائیں۔

جیل قوانین اور ملاقاتوں کا نظام بیرسٹر عقیل ملک نے زور دیا کہ ملاقاتیں کسی کی خواہشات پر نہیں بلکہ جیل مینوئل اور پریزن رولز کے مطابق ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سپرنٹنڈنٹ جیل کو مکمل اختیار حاصل ہے، اور اڈیالہ جیل میں صرف عمران خان (قیدی نمبر 804) ہی نہیں بلکہ دیگر قیدی بھی موجود ہیں جن کی سکیورٹی کا خیال رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے ماضی کی مثالیں دیں کہ شاہد خاقان عباسی کو نو ماہ تک ملاقات کی اجازت نہ دی گئی، جبکہ نواز شریف کی تین ہفتوں میں سیاسی گفتگو کی اجازت نہ تھی۔ عمران خان کی بہنوں اور وکلا سے ملاقاتیں تو ہو رہی ہیں، مگر فیملی کی سیاسی بحثیں ضابطوں کی خلاف ورزی قرار دی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: ائیربس کمپنی کا طیاروں کا سافٹ وئیر اپ ڈیٹ کرنےکا فیصلہ، ہزاروں طیارے متاثر ہونےکا خدشہ

سیکورٹی اور خاندانی رابطوں کا توازن عقیل ملک نے بتایا کہ عمران خان کو واٹس ایپ کالز کی سہولت بھی دستیاب رہی ہے، لیکن بیٹوں سے براہ راست رابطہ عدالت کے حکم کے بغیر ممکن نہیں، کیونکہ سپرنٹنڈنٹ کا اختیار محدود ہے۔ ان کے بیٹے پاکستان آنے کو تیار نہیں، اور حکومت شہریوں کی حفاظت کو ترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا کہ احتجاج پرامن رہے تو کوئی روک ٹوک نہیں، اور سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہونے پر ایک بہن یا وکیل کی ملاقات کا امکان موجود ہے۔

نتیجہ یہ بیان حکومت کی طرف سے لچک کی نشاندہی کرتا ہے، مگر ضابطوں کی پابندی پر زور دیتا ہے۔ عمران خان کی صحت کو جیل انتظامیہ نے ٹھیک قرار دیا ہے، جو خاندانی خدشات کو کم کر سکتا ہے۔ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باوجود، ایسے اقدامات تنازعات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ سب آئینی دائرے میں رہیں۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں