غزہ – دو برس کی طویل معطلی کے بعد غزہ کی اسلامی یونیورسٹی میں ایک بار پھر باضابطہ کلاسز کا آغاز ہوگیا۔ اسرائیلی بمباری سے شدید متاثرہ عمارتوں کے ٹوٹے پھوٹے کلاس رومز میں شعبہ ادویات اور ہیلتھ سائنسز کے طلبہ نے حاضری دی، جو فلسطینیوں کی تعلیم سے لگاؤ اور زندگی کی طرف واپسی کی علامت ہے۔
جنگ نے تعلیمی ڈھانچے کو تباہ کر دیا تھا
2023-2024 کی جنگ کے دوران اسلامی یونیورسٹی غزہ سمیت پورے خطے کا تعلیمی نظام بری طرح متاثر ہوا۔ فلسطینی وزارت تعلیم کے مطابق 165 تعلیمی ادارے مکمل طور پر تباہ جبکہ 392 کو جزوی نقصان پہنچا۔ اسلامی یونیورسٹی کی متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں اور باقی ماندہ حصوں میں بے گھر خاندان پناہ لیے ہوئے ہیں۔ بجلی کی بندش، انٹرنیٹ نہ ہونے اور مسلسل نقل مکانی کی وجہ سے آن لائن کلاسز بھی تقریباً ناممکن رہی تھیں۔
تدریس کا بتدریج آغاز، متبادل رہائش کی اپیل
یونیورسٹی انتظامیہ نے جزوی طور پر بحال ہونے والے کلاس رومز میں تدریس دوبارہ شروع کر دی ہے۔ تاہم کئی عمارتیں اب بھی ہزاروں بے گھر فلسطینی خاندانوں کی رہائش گاہ بنی ہوئی ہیں۔ یونیورسٹی صدر ڈاکٹر صوفیان طيب نے متعلقہ عالمی اور مقامی اداروں سے اپیل کی ہے کہ ان خاندانوں کے لیے فوری متبادل رہائش کا بندوبست کیا جائے تاکہ باقی شعبوں کی کلاسز بھی مستقل بنیادوں پر شروع کی جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایل این جی کارگوز کی منتقلی کا منصوبہ منظور، ایک ارب ڈالر کی زرمبادلہ بچت متوقع
“یہ دن تاریخی ہے”
یونیورسٹی صدر نے کلاسز کے آغاز کو “تاریخی لمحہ” قرار دیا اور کہا کہ “طلبہ و طالبات کی واپسی اس بات کا ثبوت ہے کہ فلسطینی قوم علم اور زندگی سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔” انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ غزہ کے تعلیمی اداروں کی جلد بحالی کے لیے فنڈز اور امداد فراہم کی جائے۔
