منگل, مارچ 3, 2026
Homeپاکستانجماعت اسلامی کا بی آر ٹی پروجیکٹ بند کرنے اور پرانا یونیورسٹی...

جماعت اسلامی کا بی آر ٹی پروجیکٹ بند کرنے اور پرانا یونیورسٹی روڈ بحال کرنے کا مطالبہ

کراچی میں نیپا کے قریب نالے میں بچے کے گر کر جاں بحق ہونے کے افسوسناک واقعے پر جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان اور امیر کراچی منعم ظفر نے سندھ حکومت اور بلدیہ عظمیٰ پر شدید تنقید کی ہے اور ریڈ لائن بی آر ٹی پروجیکٹ فوری بند کرکے پرانا یونیورسٹی روڈ بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بی آر ٹی کے نام پر شہریوں کی تذلیل کی جا رہی ہے اور کراچی کی ترقی کے 3360 ارب روپے سندھ حکومت کھا گئی۔

نالے میں بچے کی موت اور حکومتی بے حسی

حافظ نعیم الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں بچے کھلے نالوں میں گر کر مر رہے ہیں مگر سندھ حکومت اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کوئی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔ منعم ظفر نے بتایا کہ واقعے کے بعد ٹاؤن چیئرمین، ڈپٹی کمشنر اور مرتضیٰ وہاب کو متعدد میسجز کیے گئے مگر کسی نے جواب نہیں دیا۔ انہوں نے اس بے حسی کی شدید مذمت کی۔

ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبہ شہریوں کیلئے عذاب

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ریڈ لائن بی آر ٹی پانچ سال سے زیر تعمیر ہے اور آئندہ چار سال بھی مکمل ہونے کا امکان نہیں، اس دوران یونیورسٹی روڈ تباہ حال ہے، ٹریفک کا بدترین جام ہے اور شہری شدید پریشانی میں ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ پروجیکٹ فوری بند کیا جائے اور پرانا یونیورسٹی روڈ فوراً بحال کیا جائے تاکہ لاکھوں شہریوں کو ریلیف مل سکے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: نیپا چورنگی پر مین ہول میں گرنے والے بچے کی لاش 14 گھنٹے بعد مل گئی

زمینوں پر قبضے اور شہری تحفظ

حافظ نعیم نے اعلان کیا کہ کراچی میں زمینوں پر قبضہ مافیا سرگرم ہے مگر جماعت اسلامی نے خصوصی سیل قائم کر دیا ہے۔ گلشن اقبال میں ایک گھر پر قبضہ کی کوشش ناکام بنائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو لاوارث نہیں چھوڑا جائے گا اور عوام کے ساتھ مل کر قبضہ گروپوں کے خلاف مزاحمت کی جائے گی۔

نتیجہ

جماعت اسلامی نے واضح کیا ہے کہ جب تک ریڈ لائن بی آر ٹی بند نہیں ہوتی اور یونیورسٹی روڈ بحال نہیں ہوتا، شہریوں کی مشکلات کم نہیں ہوں گی۔ ساتھ ہی زمینوں کے تحفظ اور شہری سلامتی کیلئے بھی پارٹی میدان میں ہے۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں