بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے بین الاقوامی ٹیم کی سلیکشن کے لیے فٹنس اور ڈومیسٹک کرکٹ کو لازمی قرار دے دیا ہے، جس کے نتیجے میں سابق کپتان ویرات کوہلی اور روہت شرما نے وجے ہزارے ون ڈے ٹورنامنٹ میں شرکت کی رضامندی دے دی ہے۔ روہت ممبئی کی نمائندگی کریں گے جبکہ کوہلی دہلی کی ٹیم کے ساتھ واپس آئیں گے، جو 24 دسمبر 2025 سے 18 جنوری 2026 تک کھیلا جائے گا۔ یہ فیصلہ بھارتی کرکٹ میں نئی جان ڈالنے والا ہے، خاص طور پر جب دونوں ستارے ٹی ٹوئنٹی اور ٹیسٹ سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔
بی سی سی آئی کا سخت مطالبہ
بی سی سی آئی نے واضح کیا ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک سطح پر فعال رہنا ہوگا، ورنہ سلیکشن کا امکان ختم۔ یہ پالیسی فٹنس معیار کو یقینی بنانے اور نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینے کا حصہ ہے۔ آسٹریلیا دورے کے بعد روہت کو ون ڈے کیپٹن شپ سے ہٹا کر شبمن گل کو سونپ دی گئی، جس نے ان کی ڈومیسٹک واپسی کو تیز کر دیا۔ پاکستانی کرکٹ شائقین بھی اسے بھارتی کرکٹ کی مضبوطی کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جو علاقائی مقابلوں جیسے کوئٹہ گلڈ کپ کی یاد دلاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا شدید برفانی طوفان کی لپیٹ میں، ہزاروں پروازیں منسوخ اور بے شمار تاخیر کا شکار
روہت شرما کی فوری دستیابی
38 سالہ روہت شرما، جو آسٹریلیا دورے میں کیپٹن شپ سے ہٹائے گئے، نے ممبئی ٹیم کو اپنی دستیابی کی اطلاع دے دی ہے۔ یہ قدم ان کی ون ڈے کیریئر کو زندہ رکھنے کا ہے، جہاں وہ اب بھی کلیدی بلے باز ہیں۔ مہاراشٹرا کی ٹیم ان کی شمولیت سے تقویت پائے گی، اور پاکستانی میڈیا میں بھی یہ خبر وائرل ہو رہی ہے کہ بھارتی اسٹارز ڈومیسٹک کی اہمیت کو تسلیم کر رہے ہیں۔
ویرات کوہلی کا دلچسپ فیصلہ
37 سالہ ویرات کوہلی، جن کے پاس ٹیسٹ میں 30، ون ڈے میں 52 اور ٹی ٹوئنٹی میں ایک سنچری ہے، دہلی کی ٹیم کے لیے کھیلیں گے۔ ابتدائی قیاس آرائیوں کے باوجود انہوں نے شرکت کی تصدیق کر دی، البتہ میچز کی تعداد طے نہیں ہوئی۔ 15 سال بعد ڈومیسٹک واپسی کوہلی کی فٹنس اور لگن کی علامت ہے، جو بھارتی کرکٹ کو مزید جاندار بنائے گی۔
نتیجہ: کرکٹ میں نئی راہ
یہ فیصلہ بھارتی کرکٹ کو مزید گہرائی دے گا، جہاں سینئر کھلاڑی نوجوانوں کو رہنمائی دیں گے۔ پاکستانی شائقین کے لیے بھی یہ سبق ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ کی اہمیت کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ وجے ہزارے ٹرافی اب نہ صرف مقابلہ بلکہ تبدیلی کی داستان بن جائے گی۔
