لاہور: سری لنکا اور آسٹریلیا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے منتخب ہونے والے پاکستانی کرکٹرز کو بگ بیش لیگ (بی بی ایل) چھوڑ کر قومی ذمہ داریاں نبھانی پڑیں گی۔ یہ سیریز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کی تیاریوں کا اہم حصہ ہیں، اور کھلاڑیوں کو غیر ملکی لیگز کے لیے جاری کیے گئے مشروط این او سی کی شرائط کے تحت دستیاب رہنا ہوگا۔ بابر اعظم، محمد رضوان، شاہین شاہ آفریدی جیسے اہم کھلاڑی متاثر ہوں گے۔
این او سی کی شرائط اور کھلاڑیوں کی دستیابی
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کھلاڑیوں کو غیر ملکی لیگز کے لیے مشروط نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) جاری کیے جاتے ہیں، جن میں قومی ڈیوٹی کو ترجیح دینا لازمی ہے۔ ذرائع کے مطابق، بی بی ایل کے لیے کھلاڑیوں کو 14 دسمبر 2025 سے 28 جنوری 2026 تک این او سی دیے گئے ہیں۔ اس فہرست میں بابر اعظم، محمد رضوان، شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف، شاداب خان اور حسن علی شامل ہیں۔ البتہ فخر زمان، نسیم شاہ اور حسن نواز کو آئی ایل ٹی ٹوئنٹی کے لیے 4 جنوری تک این او سی جاری ہوا ہے۔ قومی ٹیم میں شمولیت کی صورت میں یہ کھلاڑی بی بی ایل کو ادھورا چھوڑ کر واپس آئیں گے۔
سیریز کا شیڈول اور چیلنجز
پاکستان ٹی ٹوئنٹی ٹیم کو جنوری 2026 میں سری لنکا کا دورہ کرنا ہے، جہاں 7، 9 اور 11 جنوری کو دمبولا میں تین میچز کھیلے جائیں گے۔ اس کے بعد جنوری کے آخر میں آسٹریلیا کی ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی۔ یہ شیڈول بی بی ایل کے ساتھ ٹکرا رہا ہے، جس کی وجہ سے کھلاڑیوں کو آسٹریلیا سے سری لنکا کا سفر کرنا پڑے گا۔ امکان کم ہے کہ مستقل اسکواڈ ممبران کو استثنیٰ دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیم میں رہنے کیلئے ڈومیسٹک کھیلنے کی شرط، کوہلی ’وجے ہزارے‘ ٹرافی کھیلنے پر آمادہ
ورلڈ کپ کی تیاریاں اور نتیجہ
یہ سیریز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کی تیاریوں کے سلسلے میں منعقد کی جا رہی ہیں، جو پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے اہم ہیں۔ تاہم، بی بی ایل چھوڑنے سے کھلاڑیوں کی فارم اور مالی فوائد متاثر ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو کھلاڑیوں کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ ٹیم کی کارکردگی برقرار رہے۔ یہ صورتحال پاکستانی کرکٹ کے لیے ایک چیلنج ہے، لیکن قومی مفاد کو ترجیح دینا ضروری ہے۔
