ہفتہ, جون 13, 2026
Homeپاکستانبرطانیہ میں پاکستانی نوجوان کی ڈی پورٹیشن، شاندار تعلیمی کارکردگی کے باعث...

برطانیہ میں پاکستانی نوجوان کی ڈی پورٹیشن، شاندار تعلیمی کارکردگی کے باعث روک دی گئی

لندن: برطانیہ میں رہائش پذیر 22 سالہ پاکستانی نژاد نوجوان محمد ایزھان کی منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے پر 30 ماہ کی قید کی سزا مکمل کرنے کے بعد ڈی پورٹیشن روک دی گئی ہے۔ ان کی اسکول لائف میں نمایاں کارکردگی، ایڈی ایچ ڈی کی وجہ سے ذہنی صحت کے مسائل اور پاکستان واپسی پر ممکنہ خطرات کو بنیاد بنا کر امیگریشن ٹربیونل نے ہوم آفس کی اپیل مسترد کر دی، جس سے یہ کیس پاکستانی کمیونٹی میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔

پس منظر

محمد ایزھان 2010 میں صرف سات سال کی عمر میں والدہ اور بھائیوں کے ساتھ برطانیہ پہنچے، جہاں انہوں نے مشرقی انگلینڈ میں تعلیم حاصل کی۔ ابتدائی طور پر وہ اسکول میں ‘اسٹار طالب علم’ کے طور پر جانے جاتے تھے، رگبی ٹیم کی نمائندگی کی اور کئی ایوارڈز حاصل کیے۔ تاہم، دکان سے چوری، کلاس میں چھری لانے جیسے واقعات کی وجہ سے انہیں معطل اور پھر اسکول سے نکال دیا گیا۔ 2022 سے 2023 تک ایک منظم منشیات نیٹ ورک میں کلاس اے اور بی نشہ آور اشیا کی ترسیل میں ملوث ہونے پر انہیں قید کی سزا سنائی گئی، جسے انہوں نے قبول کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں: دبئی: رواں سال رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کی برق رفتار، سب سے مہنگی پراپرٹی کس قیمت میں فروخت ہوئی؟

قانونی کارروائی اور فیصلہ

مارچ 2024 میں قید مکمل ہونے کے بعد ہوم آفس نے محمد ایزھان کو پاکستان واپس بھیجنے کا حکم دیا، مگر فرسٹ ٹیئر ٹربیونل جیج سمینہ اقبال نے اپیل منظور کرتے ہوئے ان کی ‘اسکول لائف میں غرق ہونے’ اور ذہنی صحت کو بنیاد بنایا۔ اپر ٹربیونل جیج لُک بلپٹ نے ہوم آفس کی مزید اپیل مسترد کر دی، کہتے ہوئے کہ پاکستان واپسی سے ان کی ذہنی صحت بری طرح متاثر ہوگی اور نشہ کی عادت دوبارہ شروع ہونے کا خطرہ ہے۔ ایڈی ایچ ڈی، پی ایس ٹی ڈی اور خاندان کی عدم آگاہی کو بھی اہم قرار دیا گیا۔

وجوہات اور اثرات

ٹربیونل نے تسلیم کیا کہ محمد ایزھان کی جرم کی وجہ ایڈی ایچ ڈی کی عدم کنٹرول اور ساتھیوں کا دباؤ تھا۔ ڈاکٹر اروین گپتا کی رپورٹ کے مطابق، نشہ ایک الگ ذہنی بیماری کا سبب بنا۔ یہ فیصلہ برطانوی امیگریشن پالیسی میں ذہنی صحت اور بچپن کی کارکردگی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، خاص طور پر پاکستانی مہاجرین کے لیے جو اب یو کے میں پناہ کی درخواستیں سب سے زیادہ دائر کر رہے ہیں۔

خاتمہ

یہ کیس پاکستانی نوجوانوں کے لیے ایک سبق ہے کہ تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال مستقبل کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ تاہم، یہ برطانوی نظام کی سختی اور لچک دونوں کو ظاہر کرتا ہے، جو پاکستانی کمیونٹی میں امید اور خدشات دونوں پیدا کر رہا ہے۔

متعلقہ پوسٹس

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

یہ بھی پڑھیں